استحکام پاکستان کیسے ممکن ہے۔بدلتے ہوۓ حالات کس بات کے متقاضی ہیں۔
پاکستان اللہ رب العزت کا وہ تحفہ جو کسی معجزے سے کم نہیں۔کہنے والے یہاں تک کہہ گۓ کہ پاکستان صالح ؑ کی اونٹنی کی طرح ہے۔اسے نقصان پہنچانے والے منہ کی کھائیں گے ” کھاتے رہتے ہیں۔اور کھاتے رہیں گے انشاء اللہ
استحام پاکستان کی بات ہو تو یہ وہ موضوع ہے جس کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔کیونکہ استحام پاکستان ہی میں ہماری بقا ہے۔پاکستان جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی پاکستانی قوم خوشحال ہوگی۔ہماری خوشحالی کا دارومدار استحکام پاکستان میں مضمر ہے۔تو پھر یہ موضوع استحکام پاکستان دراصل ہماری بقا اور خوشحالی سے وابستہ ہے۔
استحکام پاکستان کے لیے سب سے پہلے اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔اللہ کے نظام۔کائنات میں جیسے بادل ہوا اور بارش اور دیگر اشیاء نقصان دہ نہیں ہیں تو پھر اللہ کا دیا ہوا نظام خلافت نقصان دہ کیسے ہوسکتا۔
استحکام پاکستان اور شکر
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے اگر میرا شکر کرو گے تو اور دوں گا ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے قیام پاکستان اور اتنی مخالفتوں اور سازشوں کے درمیان جس طرح سے زندہ و پائندہ ہے۔یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اللہ رب العزت ہی اسے قائم رکھے ہوۓ۔پھر اس پہ شکر نا کر کے ہم ناشکرے پن کا اظہار کر رہے۔جو زوال نعمت کا سبب ہے۔آج کے دن سجدہ شکر کہ ہم آزاد سرزمین کے باسی اور جب اس دنیا سے جائیں گے ہماری نسل بھی اسی آزاز زمین کی باسی ہوگی۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی تسلی اطمینان ہوسکتا۔
استحکام پاکستان اور ایٹم بم
جب تک پاکستان کو ہم اللہ رب العزت کی عنایت سمجھ کر شکرگزار رہے۔اللہ نے اس شکر کا بدلہ عطا کیا۔اور جیسے پاکستان معرض وجود میں آیا اور اسے کوئی نا روک سکا۔بالکل اسی طرح یہ ایٹمی طاقت بنا اور مسلم دنیا کا پہلا بم بن کر رہا۔ایٹم بم استحکام پاکستان کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد بنا۔ایک سجدہ شکر ایٹم بم کے لیے بھی ہو جاۓ۔
یہ بھی پڑھیے
اقبال قرآن کا شاعر یا شاعروں کا قرآن
پھر وقت کے دھارے بدلے ، شکر ناشکری میں بدلا، شرک کی آمیزش ہوئی اور غیر ملکی آقاؤں پر بھروسہ بڑھ گیا۔اللہ پہ کم سے کم تر ہوتا چلا گیا۔وہ ملک جس کا پی ائ اے دنیا کی بہترین آئیر لائن تھا۔اب بد ترین میں شامل ہوچکا۔گنتی کرتے جائیں ناشکری کن کن نعمتوں کو کھاتی چلی گئ۔اور ہم نیچے سے نیچے گرتے چلے گۓ۔کون سا جرم ہے جو اس سرزمین کے باسیوں نے اس سرزمین کے ساتھ نا کیا۔غرداری سے لے کر قتل وغارت گری اور غیر ملکی آقاؤں کی اطاعت اس حد تک جا پہنچی کہ ملکی سالمیت ہی گروی رکھ دی گی۔امریکہ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے دشمن باقی اور دوست زندہ رہتے ہیں۔ہم اسکی دوستی میں اتنا آگے آۓ کہ اپنے ہوائی اڈے تک ان کے حوالے کر دیے۔۔۔۔پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔اس جرم کی وصولی دہشت گردی کی صورت ہم نے کاٹی ہے اور نا جانے کب تک کاٹیں گے۔
استحکام پاکستان اور آرگینک نظام
وقت نے اپنی رفتار بڑھا دی۔فائنل راونڈ شروع ہوا چاہتا ہے۔صف بندی ہو رہی ہے۔23 مارچ کا دن ہے۔سوچیے ہم نے اس وطن کے استحکام میں کیا حصہ ڈالا ہے۔اللہ کا نظام خلافت روٹھے سو سال ہونے کو آۓ ہم نے اس کے لیے کتنی کوششیں کیں۔آرگینک فوڈ تک تو آن پہنچے آرگینک نظام کب ہمارا مقدر بنے گا۔ہمیں اس کے لیے دعا کے علاوہ کیا کچھ کرنا ہوگا۔سوچیے۔جب چھ فٹ پہ اسلام لاگو نا ہو تو ملک میں کیسے ہو سکتا۔تو آج کے دن لائحہ عمل تیار کیجیے اور پھر جت جائیے۔کچھ بھی ناممکن نہیں۔سب ممکن ہے۔بدلتے ہوۓ مہرے اور استحکام پاکستان کیسے ممکن ہے۔صرف نظام خلافت میں ۔۔۔۔
سوچیے
امام مہدی آج نہیں تو کل ظاہر ہو نے والے اگر ہم نے ان کا عہد پایا تو کیا اس کے لیے خود کوتیار کر لیا ہے؟