440

افغانستان میں غربت کو شکست دینے کے لیے گردوں کی فروخت جاری

تحریر شئیر کریں

افغانستان میں غربت کو شکست دینے کے لیے گردوں کی فروخت جاری ہے۔
افغانستان کی سرزمیں گزشتہ کئ دہائیوں سے جنگوں سے نبرد آزما ہونے کی وجہ سے غربت اور نامساعد حالات سے دوچار ہے۔غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر افغان عوام گردے فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

افغانی عوام کی یہ فلخراش داستاں یقینا خون سے لکھنے کے قابل ہے۔تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبہ ہرات میں اب تک ایک ہزار گردے فروخت ہونے کے انکشافات کیے گیے ہیں۔لوگ غربت کو شکست دینے کے لیے ایک گردے پر گزارہ کرنے پہ مجبور ہیں۔
فتح شاہ نے عرب نیوز کو بتاتے ہوۓ کہا کہ ہم قرض ادا کرنا چاہتے تھے۔اور قرض خواہ بار بار مطالبہ کر کے ڈرا دھمکا رہے تھے۔اس صورت حال میں کوئی راستہ نہیں بچا تھا سواۓ اس کے ہم کسی دلدل میں گر کر پیسہ کمائیں یا پھر گردے بیچیں۔بالآخر تین بھائیوں نے قرض اتارنے کے لیے چار ہزار ڈالر فی گردہ تک کی رقم ملی۔جو کہ ایک بڑی رقم تھی۔

اس طرح کی بہت سی کہانیاں ہیں جو ہرات کی گلیوں میں چل پھررہیں ہیں۔ہرات کا گاؤں شانبا جو ضلع انجیل میں واقع ہے میں ایسے لوگ وافر موجود ہیں جو ایک گردے کے ساتھ جی رہے ہیں۔اور بچوں اور خواتین تک کو گردے بیچنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ہرات میں دو ہسپتال اس غیر قانونی دھندے میں ملوث ہیں اور یہ پیوند کاری کرتے ہیں۔افغانستان میں غربت کو شکست دینے کے لیے گردوں کی فروخت کا دھندا تب تک جاری رہے گا جب تک غربت کا قلع قمع نہیں ہو جاتا۔ارباب اختیار کو اس طرف دھیان دینا ہوگا۔تاکہ اس خونی کام کو روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں