614

الفاظ کی طاقت

تحریر شئیر کریں

الفاظ کی طاقت


۔۔۔۔۔۔
میرے ایک ٹیچر کوئسچن پیپر دیتے وقت کہا کرتے تھے کہ میں نے تمھیں سو کے سو نمبر دے دیے اب یہ تم لوگوں کی مرضی کتنے رکھنے اور کتنے خراب کرنے۔۔۔یہ بات تو تھی دنیاوی امتحان کی۔مگر ایک امتحان اور بھی ہے۔اصل امتحان جس کی جانچ پڑتال کے لیے ہمارے دائیں بائیں کراما کاتبین بیٹھے ہیں۔جو ہر وقت ہمارے اعمال نوٹ کرنے میں لگے ہوۓ ہیں۔مجھے لگتا اللہ رب العزت نے ہمیں اختیار کا قلم تھما کر کہہ دیا کہ اپنے نامہ اعمال کے دفتر میں جو چاہے لکھوا لے۔اچھا یا برا۔۔اس کا اختیار تیرے یاتھ میں ہے۔اس سے بھی الفاظ کی طاقت کا پتہ چلتا ہے۔ ہمارے منہ سے نکلے ہوۓ لفظ غائب نہیں ہوتے ہوا میں موجود رہتے ،ہزاروں سال بیت جائیں مگر یہ امر رہیں گے۔جو لکھا جو بولا وہ سب امر ہوگیا۔۔سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ روز قیامت اللہ ہمارے منہ سے بولے ہوۓ لفظوں کو کیسے آنا فانا اکٹھا کر کے ہمارے سامنے لا کھڑا کرے گا۔بالکل ایسے ہی جیسے کمپیوٹر سے اڑا ہوا ڈیٹا ریکور کر لیا جاتا ہے۔ایک معمولی سا انسان یہ کر سکتا تو وہ رب تو پھر قادر مطلق ہے۔کچھ بھی کر سکتا۔


بات ہو رہی تھی الفاظ کی طاقت کی تو جو کچھ ہم بولتے ہیں اگر اسے لکھنے کے لیے کاغز فراہم کرنا پڑ جاۓ تو ہم وہ بھی نہ کر پائیں گے ۔ہم اتنا زیادہ بولتے ہیں۔جہاں تک معیار کی بات ہے
لفظ اپنے اندر بے پناہ طاقت رکھتے ہیں۔جہاں برا لفظ ہمیں ظلمت کی گہرائیوں میں گرا سکتا ہے وہی اچھا لفظ ہمیں اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جا سکتا۔لا الہ اور الحمد للہ جیسے پرعظمت الفاظ قیامت
کے دن نامہ اعمال میں بہت وزنی ہوں گے۔
جدید دنیا الفاظ کی طاقت کو جان چکی ہے جبھی آٹو سجیشن طریقہ الفاظ جس میں مختلف پاورفل الفاظ بار بار بول کر خود کو سجیشن دی جاتی ہے۔کچھ عرصہ کے بعد دماغ ان الفاظ کو قبول کر لیتا اور وہ بات ہمارےعمل میں آ جاتی ہے۔انسان آٹوسجیشن کی مدد سے انقلاب برپا کر سکتا ہے۔


ضرورت اس امر کی ہے کی الفاظ کی طاقت کو سمجھا جاۓ اور پھر ان لفاظ کی مدد سے اپنے اندر مثبت تبدیلیاں لائیں جائیں۔اور ایسا مسلسل کرنے سے اپنی ذات کے اندر انقلاب پیدا کیا جاۓ۔یہی انقلاب بالآخر ایک بڑے انقلاب کا سبب بنے گا۔انشاء اللی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں