اپنی اپروچ بدلو یہ ایک دن آپ کو بدل دے گی۔
ہرانسان کے سوچنے کا انداز اسے مختلف بناتا ہے۔کہا جاتا ہے جب بارش ہوتی ہے تو تمام جانور پناہ کے لیے چھپ جاتے ہیں مگر باز ایسا جا نور ہے جو بارش سے بچنے کے لیے بادلوں سے اوپر اڑتا ہے۔مقصد اس کا بھی وہی ہے مگر اپروچ مختلف ہے۔خود کو اتنا بلند کر لو کہ مسائل کی بارش آپ کو بھگو نا سکے۔اگر غربت کے ہاتھوں تنگ ہیں تو خود کوسستا بیچنا چھوڑ دو۔خود کو اتنا قابل بناؤ کہ لوگ قیمت لگانے پہ مجبور ہو جائیں۔ز ندگی میں کوئی ایک ہنر اور سکل کمال کی حد تک سیکھو،ٗاتنی کمال کہ کہ لوگ کہیں آپ سے اچھا تو جوتا ہالش تو کوئی کر ہی نہیں سکتا آپ سے اچھا جوتا تو کوئی گانٹھ ہی نہیں سکتا۔آپ سے اچھے کپڑے سلائی تو کوئی کر ہی نہیں سکتا۔
یہ بھی پڑھیے
بے سکون ہیں اور زندگی میں سکون چاہتے ہیں۔تو اپنی جذباتی صحت کو اتنا اچھا کر لیں کہ کوئی منفی جذبہ آپ پہ ہیوی ہو کر آپ کےا ندر کے حیوان پہ غالب نا آ سکے۔
اگر چاہتے ہیں کہ رزق زیادہ اور عمر طویل ہو تو رشتے داروں سے اچھا سلوک کریں۔یہ رشتے دار آپ کو سکون بھی دیں گے اور جینے کی امنگ۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو یہ رشتے آپ کو منوں مٹی تلے پہنچانے میں دیر نہیں کریں گے۔
اگر آپ ترقی چاہتے ہیں تو پھر اپنے اندر کی آواز سنو اور اس پہ لبیک کہنا سیکھو۔خود کی تلاش کی یہ پہلی سیڑھی ہے اس پر چل کر آپ ایک دن خودشناس ہو جائیں گے۔پھر بالے کو علامہ اقبال بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔عبدالستار ایدھی بھی ہاتھوں سے ریڑھی گھسیٹتا ایک دن ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھتا ہے۔جو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولنس سروس بنتی ہے۔