طارق عزیز بھی چلا گیا۔ادب روایت اور سخن کا دلداہ۔۔۔لفظ ان کے منہ سے یوں اترتے تھے کہ لگتا بنے ہی ان کے لیے ہوں۔یہی وہ شخص تھا جس کے پروگرام کا انتظار بڑی شدت سے کیا جاتا۔اردو بولنی انہی سے سیکھی۔یہ خوبصورت آواز اب اس دنیا سے کسی اور دنیا میں منتقل ہو گی ہے۔دعا ہے ہے کہ ان کے آگے کی دنیا میں ان کے لیے ا دی راحتیں میسر ہوں۔
420