553

بہانے بنانا چھوڑو اور محنت کرو

تحریر شئیر کریں

بہانے بنانا چھوڑو اور محنت کرو

حمزہ خاں
لومڑی کی مشہور زمانہ کہانی تو آپ نے سنی ہو گئی جس میں وه بار بار کوشش کرنے کے باوجود انگور کے درخت تک نہیں پہنچ پاتی اور جب تھک ہار جاتی ہے تو کہتی ہے کہ انگور کٹھے ہیں(کیونکہ وه انہیں حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے )۔ٹھیک اسی طرح ہم جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو اگر اس کام میں ہم ناکام ہو جائیں تو کام کو برا بھلا کہہ کر اس میں عیب نکالتے ہیں ۔اس کی کئی امثال ہیں ۔ایک لڑکے نے ضد کی کہ وه اپنی پسند کی شادی کرے گا ،ہر جگہ اس کی پسند کی تعریفیں ہوتی ہیں ،لڑکے کے والدین جب رشتہ لے کر لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں تو لڑکی والے رشتہ دینے سے انکار کر دیتے ہیں ۔یہ سننے کے بعد جس لڑکی کی تعریفیں کی جاتی تھی اسے برا بھلا ،بدچلن اور دیگر برے القابات سے نوازا جانے لگا (صرف اس لیے کیونکہ لڑکی والوں نے انکار کر دیا اور انگور کھٹے نکلے)۔

کسی لڑکے نے فیس بک پر ایک لڑکی کو ریکویسٹ بھیجی تو اس لڑکی نے ریکویسٹ قبول کرنے کے بجاۓ لڑکے کو بلاک کر دیا ،اس کے بعد ساری فیس بک پر لڑکے نے لڑکی پر مختلف طرح کے الزامات لگا کر اسے بےوفا تک ثابت کر دیا صرف اس لیے کیونکہ لڑکی نے ریکویسٹ قبول نہیں کی( انگور کھٹے نکلے اور وه اسے میسر نہ تھی )۔ایک بچے نے امتحانات میں نمبرات کم لیے جبکہ دوسری طرف اس کے ایک کزن نے پہلی پوزیشن حاصل کی ،باپ نے بیٹے سے کم نمبرات کی وجہ پوچھی اور یہ بھی پوچھا کہ تم نے ٹاپ کیوں نہیں کیا ؟بیٹا کہنے لگا کہ بابا میرے کزن کے ہال میں بہت نقلیں ہو رہی تھی جبکہ میں دوسرے ہال میں تھا ،اس کے پیپرز کسی دوسرے استاد نے چیک کیے ،استاد کی مجھ سے دشمنی تھی اس لیے مجھے کم نمبرات دئیے۔ یہاں بھی انگور کھٹے نکلے کیونکہ بچے سے جو کام نہیں ہو پایا اس نے اس کام کو ہی برا کہہ ڈالا ۔

میرے ایک دوست نے آرمی میں کمیشن اپلائی کیا مگر وه ناکام رہا ۔وہاں سے واپس آ کر اس نے آرمی کو برا کہنا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ وہاں صرف آرمی والوں کے بچے سلیکٹ ہوتے ہیں ۔یہاں بھی انگور کھٹے نکلے کیونکہ جو کام اس سے نہ ہو پایا وه اس میں عیب نکالنے لگا ۔میرے دوست نے پھر کوشش کی تو وه کامیاب رہا ،میں نے اس وقت اس سے پوچھا کہ تم تو آرمی والے کے بیٹے نہیں تھے پھر کیسے کامیاب ہوۓ ؟یہ سن کر اس کی آنکھیں ندامت سے جھک گئیں ۔ایسی بہت ساری اور امثال بھی میرے پاس موجود ہیں ۔

بعض اوقات ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر فلاں انسان نہ ہوتا تو ہم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دینے تھے مگر ہمارے کام کے آگے فلاں انسان آڑے آیا ۔ قارئین آپ ان امثال سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو کام ہم سے نہیں ہو پاتا ہم اس میں ضرور نقص نکالتے ہیں،ہم کام نہ ہونے کی وجہ دوسروں کو ٹھہرا کر ان پر الزامات لگاتے ہیں جو کہ بہت برا فعل ہے ۔

اس کے برعکس اگر کوئی کام ہم کر لیں تو اپنی واہ واہ کرنے لگتے ہیں اور باقی سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔اللہ‎ کے نیک بندے ہر حال میں خوش رہ کر اللہ‎ کا شکر ادا کرتے ہیں نہ کہ کام نہ ہونے پر عیب نکالتے ہیں ۔چلیں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی ناکامی پر کسی دوسرے میں عیب نہیں نکالیں گے اور ہر حال میں خوش اور ثابت قدم رہ کر اللہ کا شکر ادا کریں گے کیونکہ
فقر میں ،ادبار میں،اقبال میں جو خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں
آپ ہر حال میں ثابت قدم رہنے کی کوشش کریں گے ناں ؟

بہانے بنانا چھوڑو اور محنت کرو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں