۔۔۔۔۔
اگر آپ بیٹیوں کی تربیت چاہتے ہیں تو اپنی بیویوں کو عزت دیجے۔نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے معاشرے میں یہ پہلو سب سے زیادہ نظرانداز ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔سائیکلوجیکل نقط نظر سے جن گھروں میں اس اہم نقطے پہ غور نہیں کیا جاتا بیٹیوں کی ماؤوں کو عزت نہیں دی جاتی ان کے اندر بچپن سے ایک باغیانہ رویہ پیدا ہوجاتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتج اتنا بڑھتا ہے کہ وہ بیٹی مرد کے برابر آنے کے لیے خودمختاری کے سفر پہ نکل کھڑی ہوتی ہے۔اس لگتا ہے معاشرے می عزت پانے اور سرخرو ہونے کا یہی ایک راستہ ہے۔وہ مرد جو باپ ہوتے ہوۓ اس کی چھت تھا بیوی کے ساتھ نامناسب رویے کی بدولت ہمیشہ کے لیے اپنی ننھی سی کلی کے دماغ پر ایک منفی رویے کی بدولت کبھی نا ختم ہونے والی جنگ کی وجہ بنتا ہے۔اور دکھ اس بات کا اسے کبھی اپنی اس غلطی کا احساس تک نہیں ہوتا۔
پاکستانی معاشرے میں تعلیمی میدان میں لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دراصل مقصدیت سے محروم اس خودمختاری کے سفر کے لیے کوشاں ہیں۔جو مرد کی قوامیت کو تسلیم نہیں کرتا۔مرد قوام ہے یہ قرآن کا فیصلہ ہے۔مگر جس آیت میں اللہ نے مرد کی قوامیت بتائی اس آیت کے اگلے حصے میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جیسے تم ان عورتوں پہ قوام ہو ویسے میں تم پر نگران ہوں۔تم ان عورتوں کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہو۔
پاکستان میں بیویوں کی اکثریت مردوں کے غلط رویوں کو برداشت کرتے ہوۓ زندگی گزار رہی ہے۔جب ایک بیٹی یہ سب دیکھتی ہے تو ذہنی طور پر مرد کے خلاف ہوجاتی ہے۔یہی عورت جب بیوی بنتی ہے تو کبھی ڈٹ کر اور کبھی پس کر دونوں صورتوں میں ایک تلخ زندگی اس کا مقدر بنتی ہے۔آج کی بیٹی کل کی بیوی اور ماں ہے۔اس کی تربیت میں جھول آنے والی نسلوں کی تربیت میں جھول ہے۔کیونکہ حالت محاذ میں کبھی بھی بچوں کی مناسب تربیت نہیں ہو پاتی۔ایک پرسکون اور ریلیکس بیوی ہی بچوں کی اچھی ماں بن سکتی ہے ایسی ماں جو اپنے بچوں کے دل و دماغ میں سکون بھر سکتی ہے تاکہ وہ ایک متناسب شخصیت میں ڈھل کر اپنے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔
386