420

بے شک ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے

تحریر شئیر کریں

بے شک ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا  ہے    

اہم حقیقت کی طرف ااشارہ کرتی اس آیت سے ہم یونہی گزر جاتے ہیں،بغیر سوچے سمجھے بغیر کچھ  سیکھے،مگر کب تک،تب تک جب یہ موت  اپنے شکنجوں میں ہمارے کسی اپنے کو  نہیں جکڑ لیتی۔

تین اگست 2007ء وہ دن تھا جب پہلی بار موت کومحسوس کیا،لذتوں کو ختم کر دینے والی موت  ،رشتوں کو ہڑپ کر جانے والی موت جس سے آج تک کوئی ذی روح نا بچ سکا ہے نا بچ سکے گا۔اس دن میرے والد گرامی اچانک موت کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا سوئے،وہ رات بڑی مشکل تھی لگتا کبھی سو نہیں پاؤں گی۔ساری رات قبر کی پہلی رات کے بارے میں سوچتی رہی اور ان کی اگلی مزل کی آسانیوں کے لیے دعائیں مانگتی رہی،پھر نجانے کیسےصبح 9 بجے  میری آنکھ لگ گئی،اور بے ساختہ سوچنے لگی کہ زندگی کی یہی حقیقت ہے،موت صرف  اس بندے کی زندگی میں تبدیلی لاتی ہے وگرنہ باقی سب تو چلتا رہتا ہے۔

ابا کے جانے کے ایک ہفتے بعد میں نے گھر کے اندر جھانکا ،جہاں انکے سلیپر پڑے تھے وہ جگہ اب خالی تھی،پھر ٹیبل کی طرف جہاں انکی دوائیاں پڑی رہتیں تھیں وہ بھی خالی تھی،جائزہ  لیتی گئی اور حیران ہوتی گئی،اس گھر کو چلانے والا اس کا سربراہ  جسے گئے ایک ہفتہ ہوا ہے اور انکی سب چیزیں ہٹا دی گئی ہیں۔کیا یہی سب کچھ ہوتا ہے کیا ہمارے بعد بھی ایسے ہی ہوگا۔  

اہم چیز جو اس دن کے بعد محسوس ہوئی موت والی آیت ہو حدیث ہو یا کوئی واقعہ موت سے گزرنا سرسری نہیں ہوتا،باپ سر کا سائباں ہوتا ہے میں سوچا کرتی تھی کہ اللہ وہ دن نا دکھائے کہ میں اپنے والدین  کی موت دیکھوں ،مگر تقدیر سے کون جیت سکا ہے۔ان کے جانے کے بعد سوچتی ہوں کہ وہ چہرہ جو روز دیکھتے جب نہیں دکھتا تو کییسے دل کٹ کٹ جاتا ہے۔ا

یہ بھی پڑھیے

قرآن ڈائری توکل

ور میں نئے سرے سے اپنے اردگرد دیکھنے لگتی ہوں وہ کہیں بھی نہیں ہیں،کیا اتنی کھلی حقیقت کافی نہیں ہے جاننے کے لیے کہ ہم بھی ایک دن ایسے ہی چپ چاپ چلے جائیں گے،اور پیچھے رہ جانے والےساری رات رونے کے بعد صبح  اپنی نیند کے مزے لوٹیں گے،اور پھر دنیامیں کچھ بھی نہیں بدلے گا۔کسی کو کچھ فرق نہیں پڑے گا سب چلتا رہے گا،تو پھر کیوں اس دنیا کے پیچھے اتنا خوار ہونا ،اتنا دل لگانا جب یہ کسی کی ہے ہی نہیں۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ اس دنیا کی حقیقت مرے ہوئے بکری کے بچے جیسی ہے جسے کوئی لینا پسند نہیں کرتا۔کتنی خوبصورت حدیث ہے مگر ہم  دنیا کی رنگینیوں مینں  اتنے گم ہیں کہ اس اہم حقیت کو فراموش کیے بیٹھے ہیں،مزید فرمایا “لذتوں کو ختم کر دینے  والی موت کو کثرت سے یاد کرو”

بلاشبہ موت ہم سب پر آنی ہے۔اکلہ ہمیں۔دنیا کی رنگینیوں۔سے بچائے اور آخرت کی فکر عطا کرے۔کیونکہ ہرجان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں