تانبے کے برتن کس حد تک مفید ہیں۔جانیے قلم کتاب پر
تانبے کے برتنوں کا اسلامی ہماری قدیم ثقافت میں عام ملتا ہے۔گھروں میں جہاں مٹی کے برتن استعمال ہوتے تھے وہی پیتل اور تانبے کے برتن بھی پاۓ جاتے تھے۔تانبے کے برتن دیکھنے میں دیدہ زیب اور خوبصورت لگتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر ان برتنوں میں کھانا پکایا جاۓ تو کس حد تک فائدہ مند ہے۔
تانبہ انسانی صحت کا ایک اہم جزو ہے۔تانبے کے برتنوں کا استعمال کئ امراض میں مفید ہے۔تانبے میں پایا جانے والا۔مائیکرو نیوۓرینٹ جسمانی کارکردگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔پرانے وقتوں میں تانبے کے برتنوں کی افادیت سے لوگ آگاہ تھے جبھی اس کا استعمال کو ترجیح دیتے تھے۔جدید دور میں اس کا استعمال
اگرچہ نہیں رہا دوسری طرف تانبے کے برتن بنا نے والی کپنیاں ناقص میٹریل استعمال کرتیں جبھی وہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
جہاں تک تانبے کی تاریخ کی بات ہے کھیتری تانبے کی کان جو برصغیر میں واقع ہے تانبا نکالنے کے لیے مشہور ہے یہاں سے صدیوں سے تانبہ نکالا جا رہا ہے۔قرآن مجید میں بھی تانبے کا ذکر ایک دھات کے طور پر کیا گیا ہے۔
تانبہ درجہ حرارت کو آسانی سے جذب کر لیتا ہے جبھی کھانا پکانے کا عمل اس میں مفید ہے۔سوال یہ ہے کہ ان برتنوں کا کتنا ستعمال کر سکتے؟
یہ بھی پڑھیے
تانبے کی جتنی ضرورت ہمارے جسم کو ہےاگر اس سے زیادہ لیا جاۓ تو یہ ٹاکسک بن جاتا ہے۔انیس سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے 10 ملی گرام روزانہ کے تانبے کی ضرورت ہوتی ہے اگر ہم زیادہ کھانا تانبے کے برتنوں میں پکا ہوا کھائیں گے تو ایک تانبا جو خوراک میں موجود برتن کے تانبے سے مل کر زیادہ ہو سکتا۔اسی طرح تانبے کی کمی بھی جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔تانبے کی کمی سے ہڈیوں کے امراض جسمانی تھکاوٹ کمزوری یادداشت کی کمزوری چلنے پھرنے میں دقت جلد پر سفید نشان آنکھوں کی بینائی کا خاتمہ کے علاوہ بالوں کا سفید ہونا بھی شامل ہے۔
جبھی اعتدال کی ضرورت ہے۔تانبے کے برتن کس حد تک مفید ہیں درج بالا حقائق سے واضح ہوگیا ہے۔
کھانے کے بیکٹریا کا موثر مقابلہ تانبے کی برتن میں بآسانی ہو سکتا ہے۔جگر جو کہ تانبے کا مرکز ہے اس کا کام جسم میں ریڈ سیلز کو بڑھانا ہے۔اس سے جسم میں خون کی روانی برقرار برقرار رہتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ فولاد کو جذب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ایک اہم بات یہ کہ تانبے کے برتنوں کے اوپر نکل کی کوٹنگ ہوتی ہے جو کھانے کو ڈائریکٹ تانبے میں آمیزش سے روکتی ہے۔جب ایسے برتنوں میں زیادہ کھانا پکایا جاتا ہے تو نکل کی دھات کی کوٹنگ اترنے لگتی ہے خاص طور پر تیزابیت والے کھانے پکانے سے۔اس لیے زیادہ پکانا نقصان دہ ہے۔اگر کسی کو دودھ ہضم نا ہوتا ہو یا تانبے کی کمی کا شکا ر ہو تو اس کو چاہیے تانبے کے برےن میں دودھ ابال کر پئیے یہ شکایت دور ہو جاے گی۔
تانبے کے برتن کس حد تک مفید ہیں یی جاننا برتن استعمال کرنے سے پہلے ضروری ہے۔