قومیں کپڑا اور کپاس بیچ کر نہیں بلکہ تعلیم پر خرچ کرنے سےامیر ہوتی ہیں .وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان انکی ذہنی سطح کا غماض ہے کہ انکا وژن بہت آگے ہے۔مگر جب تک عملی اقدام نہیں اٹھاۓ جائیں گے بات نہیں بنے گی۔نئی بنیادیں رکھنے کے لیے ضروری ہوتا کہ پرانے اور فرسودہ نظام کو اکھاڑ پھینکا جاۓ اور یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔عزم پختہ اور یقین واثق سے جو اس مرحلے سے گزر جاتے پھر صدیاں انکی ہوتیں ہیں۔ایسے لوگ امر ہو جاتے ۔تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔عمران خان اللہ کرے آپ اس وژن کو عملی طور پر مافذ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
میانوالی میں ڈاکڑز اور لیڈی ڈاکٹرزکی تعیناتی کے آرڈر دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نمل یونیورسٹی بنانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔جو اس خواب کی طرف پہلا قدم ہے جو انہوں نے ازاد خودمختار اور ترقی یافتہ ملک کے بارے میں دیکھا ہے۔تعلیمی میدان میں ترقی ملک و قوم کی ترقی ہے۔اور اس میں پیچھے رہنا قوموں کا نقصان ہی نہیں ملک کا بھی نقصان ہے۔تاریخ بتاتی ہے جن قوموں نے تعلیمی میدان میں معرکے سر کیے وہ آج اوج ثریا پہ ہیں۔چین جاپان جیسے ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہے۔جاہان ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی کے بعد نۓ عزم اور ہمت سے دنیا کو باور کروانے میں کامیاب ہوا ہے کہ ہم مٹ سکتے ہیں تو بن بھی سکتے۔اس مقصد کے لیے تعلیمی میدان میں ترقی کی۔علم و ٹیکنالوجی میں آگے اۓ۔