حاصل اور لاحاصل کا سفر
“ﺣﺎﺻﻞ” ﺍﻭﺭ “ﻻﺣﺎﺻﻞ”
ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ہیں
ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ “ﻧﺎﻗﺪﺭﯼ”
ﺍﻭﺭ
ﻻ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ” ﺣﺴﺮﺕ “
ﺧﺘﻢ ہی نہیں ہوتی.
آخرت اور دنیا کی مثال گندم اور بھوسے جیسی ہے. جس طرح گندم اگانے والے کو بھوسہ مفت مل جاتا ہے. اسی طرح آخرت کمانے والے کو دنیا مفت مل جاتی ہے. جو اللہ کا ہو گیا اللہ اسکا ہو گیا اور جس کا اللہ ہوگیا اسے اور کیا چاھیے
وقت تھوڑا ہے اور کام زیادہ،مشکلیں زیادہ ہیں اور آسانیاں کم۔۔۔مومن کبھی حالات سے مایوس نہیں ہوتا وہ ہمیشہ برے حالات سے نۓ مواقع نکالنے کا ہنر رکھتا ہے۔
شیطان کا راستہ فقر کا دروازہ کھولتا ہے اور امید کا راستہ رحمن کا راستہ ہے۔امید یقین اور روشنی سب اسی راستے کے مسافر ہیں۔شیطان کی پیروی مت کریں۔ورنہ روشن راہوں میں بھی مایوس ہو جاو گے رحمن کا راستہ پاؤ گے تو اندھیروں میں بھی جگنو چمکیں گے۔.
زندگی کے سفر میں کبھی کبھی
محنت اور ڈگریاں ہار جاتی ہیں ۔
قسمت اور دعائیں جیت جاتی ہیں
زمین والے تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اگر تمہارا تعلق آسمان والے سے پختہ ہو جاۓ اور جب سجدے طویل ہوجائیں تو مشکلیں قلیل ہوجاتی ہیں۔
ہزاروں دعاؤں کے ساتھ الله پاک ہم سب پرہمیشه مہربان رہے
آمین الہی آمین
پروفیسرایم اےرفرف جنرل مینیجرسیلزأدم جی انشورنس
حاصل اور لاحاصل کا سفر