281

دورانِ جنگ نفسیاتی دباؤ سے کیسے بچیں؟

تحریر شئیر کریں

خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے مکمل رہنما

جنگ صرف محاذ پر لڑنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ گھروں میں بیٹھے معصوم بچوں، ماؤں اور بزرگوں کے لیے بھی ایک کربناک تجربہ ہوتی ہے۔ صرف بم اور گولیاں ہی نہیں، ذہنی دباؤ، خوف، غیر یقینی صورتحال، اور مسلسل خبریں انسان کی روح کو زخمی کرتی ہیں۔ اس بلاگ میں ہم ان ہی مسائل پر بات کریں گے کہ دورانِ جنگ نفسیاتی دباؤ سے کیسے بچا جائے؟ اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کی ذہنی صحت کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟

1. نفسیاتی دباؤ کیا ہوتا ہے؟

نفسیاتی دباؤ (Stress Disorder) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جو شدید خوف، دباؤ، بے چینی یا مایوسی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ جنگی حالات میں جب مسلسل خطرات، خبریں، راشن کی قلت، یا نقل مکانی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو یہ کیفیت عام ہو جاتی ہے۔

“خوف صرف جسم کا نہیں ہوتا، دماغ کا زہر بن جائے تو نسلیں برباد ہو جاتی ہیں۔” – علامہ اقبال

2. جنگی حالات میں عوام کی ذہنی کیفیت

2023 میں فلسطین، 2021 میں افغانستان، اور ماضی میں عراق جیسے ممالک میں جنگ نے لاکھوں افراد کو نفسیاتی مریض بنا دیا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، “جنگی حالات میں ہر پانچواں فرد کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔”

پاکستان میں اگرچہ مکمل جنگ کی حالت نہیں رہی، مگر 2025 کے حالیہ ڈرون حملوں نے ایک بار پھر عوام کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ لوگ سائرن کی آواز سے گھبرا جاتے ہیں، بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے، اور خواتین کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔

3. خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی اقدامات

الف۔ پناہ گاہوں کی منصوبہ بندی:
خواتین اور بچوں کے لیے الگ اور محفوظ پناہ گاہیں قائم کی جائیں جہاں رازداری، خوراک، اور طبّی امداد موجود ہو۔

ب۔ گفتگو کا ماحول پیدا کریں:
ماہرین کہتے ہیں کہ “خاموشی ذہن کو دیمک کی طرح چاٹتی ہے۔” بچوں سے بات کریں، ان کے سوالات کا جواب دیں، اور اُن کے خوف کو کم کریں۔

ج۔ مثبت سرگرمیاں:
کھیل، کہانیاں، دعا، قرآن خوانی، یا آرٹ جیسی سرگرمیوں سے ذہن کی توجہ بٹتی ہے۔

د۔ ماہرینِ نفسیات کی خدمات:
اگر کسی خاتون یا بچہ میں بے خوابی، رونے کی زیادتی، یا سستی کی علامات ہوں تو فوری نفسیاتی مدد لیں۔

4. مرد حضرات کے لیے ذمہ داریاں

اپنے گھر والوں کو روزانہ کی بنیاد پر اعتماد دیں۔
صرف تصدیق شدہ خبریں سنیں اور پھیلائیں۔
خود کو مضبوط رکھیں تاکہ دوسروں کو سہارا دے سکیں۔

5. سوشل میڈیا اور نفسیاتی تباہی

ہر لمحہ موبائل پر بمباری کی ویڈیوز، لاشیں، اور افواہیں ایک “ڈیجیٹل ٹراما” پیدا کرتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے:

روزانہ صرف مخصوص وقت کے لیے خبریں دیکھیں

افواہوں سے گریز کریں

سوشل میڈیا بریک لیں

6. اسلام کی تعلیمات – روحانی طاقت کا سرچشمہ

قرآن کریم فرماتا ہے:
“الا بذکر الله تطمئن القلوب”
(بیشک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر سے ہے) – سورہ رعد: 28

روزانہ اذکار اور دعا کو معمول بنائیں۔
بچوں کو سورہ فلق، سورہ ناس، اور آیۃ الکرسی سکھائیں۔
مصیبت کی گھڑی میں اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔

7. وقتی اقدامات جو فوری مدد فراہم کرتے ہیں

گہری سانس لینے کی مشق کریں

پانی پیئیں تاکہ جسم اور دماغ متوازن رہیں

کسی قابلِ بھروسا فرد سے بات کریں

اذکار جیسے “حسبنا اللہ” کو دہراتے رہیں

بچوں اور بزرگوں کو تسلی دیں اور حوصلہ بڑھائیں

جنگی حالات سے بچنا ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن ان حالات میں اپنے اعصاب، ایمان، اور خاندان کو سنبھالنا ضرور ممکن ہے۔ خواتین، بچوں، اور بزرگوں کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں