455

دوسروں کا سہارا بنیے

تحریر شئیر کریں

بہت مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گُھورنا شروع کردیتے ہیں۔۔ جیسے ہی کوئی بھیڑیا بُھوک سے نِڈھال ہو کر گِرتا ہے تو باقی سب مِل کر اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اُس کو کھا جاتے ہیں، اِس عمل کو فارسی میں ’’گُرگِ آشتی‘‘ کہتے ہیں۔۔۔۔
اِس عمل کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ رُجحان بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ کافی حد تک ہو بہو انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔۔ ہم انسان بھی ان بھیڑیوں کی طرح ہیں، جو کمزور نظر آۓ اسی پر اپنی دھاگ بٹھاتے ہیں۔۔۔ جو جتنا حالات کا ستایا ہوتا ہے اتنا ہی مزید اس کے ساتھ شدت پسندانہ رویہ اپناتے ہیں۔۔۔
جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے اسی کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کرکے اس کی رہی سہی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔۔۔ ہم کمزور کا سہارا بننے کے بجاۓ، الٹا مزید اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔ جو جتنا کمزور ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے زندگی دشوار بنا دیتے ہیں…بھیڑیوں کی طرح ان پر آنکھ تانے بیٹھے رہتے تاکہ جیسے ہی کوئی کمزور پڑے اس کو اچک لیں۔

بطور انسان ہمیں خود کو اتنا مضبوط کرنا ہے کہ کوئی ہمیں ہماری کمزوری کی وجہ سے نشانہ نا بنا سکے۔زندگی کے ہر پہلو کو مضبوط بنائیں۔روحانی جذباتی اور جسمانی ہر طور سے مضبوط۔۔۔۔ایسے ہی لوگ کل کو دوسروں کا بھی مضبوط سہارا بنیں گے۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہونے کو یے۔عہد کریں کہ بھیڑیا نہیں بننا بلکہ خود کو مضبوط بنا کر اپنے سے کمزور لوگوں کا سہارا بننا ہے۔ہم تو وہ امت ہیں جو ایک پانی کا پیالہ دوسرے کو پیش پیش کرتے جام۔شہادت نوش کر دیتے ہیں اور پیالہ اس عظیم قربانی کو دیکھ کر انگشت بداں رہ جاتا ہے۔آسمان نے اور زمین نے کہاں یہ منظر دیکھے ہوں گے۔انسانوں کی اس زمین پر بھیڑیے کہاں سے آ کر پھیل گۓ ہیں۔سید مودودی کے مطابق جوں جوں نیکی منظم ہوتی جاۓ گی توں توں برائی خود بخود ختم ہوتی جاۓ گی۔بس اس رمضان میں عہد کریں کہ خود کو زیادہ سے زیادہ منظم مسلمان بنانا یے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں