380

دو کام ضرور کریں

تحریر شئیر کریں

عورتیں یہ دوکام ضرور کریں دین و دنیا کی کامیابیاں مقدر بنے گیں۔

اپنی کلاس فیلو کی بات سن کر میں دنگ رہ گئ تھی۔جب میرے ڈپریشن اور انگزائٹی کا سن کر اس نے بے ساختہ پوچھا تھا کہ آپ نماز پڑھتی ہو؟میں نے کہا ہاں۔۔کہتی پانچوں وقت کی ، میں نے کہا جی ۔۔کہتی پڑھتی ہو گی مگر پانچ نہیں۔اگر پانچ نمازیں پڑھتی ہوتی تو کبھی بھی ڈپریشن نا ہوتا۔جواب نہیں تھا انکشاف تھا۔میرے پورے وجود میں سنسنی دوڑ گئ۔وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔میں صبح کی نماز کچھ سالوں سے تقریبا قضا ہی پڑھ رہی تھی۔

زندگی بہت قیمتی ہیرا ہے۔اسے تراشے گے نہیں تو یہ زہر بن کر آپ کو چاٹ لے گا۔جو خواتین زندگی سے فائدہ حاصل کرنا چاہتیں۔وہ دو کام ضرور کریں۔کامیابیاں لپک لپک کر انکی طرف آئیں گیں۔
اول وقت میں نماز پڑھنا

خاوند کی پہلی پکار پر حاضر ہونا
اللہ رب العزت نے دنیا کی ساری راحتیں نماز میں رکھ چھوڑیں ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ نماز ہمیں راحت خوشی نہیں دے پاتی؟

اللہ رب العزت نے عورت کو سکون کا زریعہ بنایا۔مردوں کے لیے راحت سکون اور خوشی کا حصول فرمانبردار اور نیک عورت میں رکھ دیا ہے۔اس لیے بیوی پر واجب ہے کہ وہ اپنے خاوند کی تابع فرمان ہو۔جب وہ بلاۓ تو سارے کام چھوڑ کر حاضر ہو جاۓ۔جو عورت ایسا کرتی ہے وہ اپنے خاوند کی نظر میں معتبر ہوجاتی ہے۔اور جو مرد کا اعتبار اور اعتماد جیت لے دنیا میں اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں۔میری اس بات سے آپ اتفاق کرے یا نا کرے۔مگر وہ عورتیں جو ساری عمر اس کام میں صرف کر دیتیں ہیں کہ مرد انکی سنتے نہیں۔وہ ضرور متفق ہوں گی کہ شوہر کی نظر میں معتبر ہونا کتنا ضروری ہوتا ہے۔اس ایک کام کے لیے عورتیں ہر جائز نا جائز حربہ استعمال کرتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پیروں فقیروں کے پاس آنے والی اکثر عورتیں یہی مسئلہ لے کر آتیں ہیں۔میری ایسی عورتوں سے استدعا ہے کہ یہ دو کا م اپنی زندگی میں شامل کر لے ۔کسی اور چیز کی حاجت نہیں رہے گی۔

اصل میں ہم شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں۔زندگی فل ٹائم جاب ہے۔شارٹ کٹ ہے ہی نہیں۔
جہاں تک نماز کی بات ہے تو اول وقت میں ادا کی جانے والی نماز سب سے افضل ہے۔جیسے ہی اذان ہو۔پہلی پکار پر لبیک کہیں۔ساری مصیبتیں ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گیں۔جب آپ ایسا کریں گیں تو آپ کے کانشس مائنڈ کو پتہ چل جاۓ گا کہ کوئی ایسا ہے جو آپ کے ہر دکھ درد کی دوا بن سکتا۔اور وہ اسے سپر پاود۔مان لےگا۔جب تک ہم اللہ کو سپر پاور تسلیم نہیں کرتے قولا فعلا تب تک ہم ایسے ہی روتے رہیں گے۔لڑھکتے رہیں گے کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔۔۔کامیابی نہیں ملے گی

۔نبی کریمﷺ نے فرمایا نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کہاں چلی گئ۔کیا سکرینوں کی نظر تو نہیں ہوگی۔بڑےافسوس سے کہنا پڑتا ہے جو مقام ہم ڈرامے کو دیتے ہیں دراصل۔یہ مقام نماز کا تھا۔ہر حال میں پڑھنا اور لطف اندوز ہونا۔کیا ڈرامہ دیکھتے ہوۓ ہم یہ دو کام نہیں کر پا رہے ہوتے۔جو مرضی ہو جاۓ ہم ڈرامہ دیکھ کر سوتے۔دیکھتے ہی سکون آ جاتا ہے۔


تو کیا سمجھ آیا۔نماز تب ملے گی جب سکرین کم کریں گے۔جتنی سکرین کم ہوتی جاۓ گی اتنی نماز بہتر اے بہتر ہوتی جاۓ گی۔
اللہ نے عورت کو حکم دیا کہ خاوند کی اطاعت کرو۔مگر ہمارے تعلیمی نظام اور سوسائٹی نے اسے عورت کا حریف بنا کر پیش کیا۔یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں کم عمری سے ہی خود کو پاورفل بنانے کی تگ ودو شروع کر دیتی ہیں تاکہ اپنی زندگی میں آنے والے مرد کو ہرا سکیں۔مقابلہ بازی کے اس کھیل میں عورت بری طرح ہاری ہے۔اسے گھر اور جاب دونوں کو ٹف ٹائم دینا پڑ رہا ہے۔خاوند کی اطاعت ہی میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔

دو کام ضرور کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں