524

رمضان کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی روایات

تحریر شئیر کریں

رمضان کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی روایات کیا ہیں۔جانیے قلم کتاب پر

تحریر : لبنٰی جمشید

مختلف ممالک میں رمضان کا تہوار مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ ہر جگہ سحری و افطاری کی روایت دوسرے ممالک کے کلچر سے الگ پہچان لیے ہوتی ہیں۔ آئیے ہم ان کا جائزہ لیتے ہوۓ ہمسایہ ملک بھارت سے شروع کریں۔

بھارت

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بھارت میں ایک تہائی مسلمان آباد ہیں اور مودی سرکار کی پابندیوں کے باوجود یہاں پر مسلمان اپنے دین اور کلچر کی حفاظت اور فروغ کے یے کوشاں ہیں۔ وہاں کے ضلع آلہ آبادمیں رمضان کا چاند دیکھتے ہی اونٹوں کی قربانی کی روایت بہت پرانی چلی آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ افطار و سحر میں روغنی پکوان کھاۓ جاتے ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد میں تراویح کا بہت بڑا اجتماع بھی ہوتا ہے ۔ مسلم سلامتی کی دعائیں مانگی جاتیں ہیں۔

سعودی عرب

دنیا میں سحر و افطار کا سب سے بڑا دستر خوان مسجد نبوی مدینہ منورہ اور مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں سجایا جاتا ہے۔ لاکھوں افراد کے لیے انتظامات قابل دیداور منظم ہوتے ہیں لیکن اس سال رمضان 2020 کرونا وبا کی وجہ سے یہ رونق رمضان محفل سجنے سے قاصر ہے۔ دعا ہے اللہ جلد کرم فرماۓ اور اگلے رمضان کعبہ و روضہ رسول کی رونقیں بحال ہوں إن شاءالله

سحری میں توپ داغی جاتی ہے تاکہ منادی ہو جاۓ۔ اس کے

یہ بھی پڑھیے

استقبال رمضان اور ہم

علاوہ خیمے لگا کر عبادات کیں جاتیں ہیں۔ سعودی بکرے کے گوشت کے پکوان زیادہ تر بناتے ہیں۔ کجھوریں بھی رمضان افطار وسحر کا خاص حصہ ہیں.

ترکی

سلطنت عثمانیہ کے دور سے ترکی میں سحری کی مختلف روایات نے جنم لیا جن میں توپ چلا کر آمد رمضان کی مبارکباد, اس کے بعد ترک عہد عثمانیہ کا مخصوص لباس زیب تن کر کے ڈرم اور بگل بجاتے ہیں۔
ترک پکوان قرب و جوار کے لوگوں کو بھیجے جاتے ہیں اور صلواة و تسبیح کے اجتماعات مختلف علاقوں میں خاص طور پر منعقد ہوتے ہیں۔

مصر

مصر میں لالٹین روشن کر کے سحری اعلان کی روایت چلی آ رہی ہے۔ یہ لالٹینز لاکھوں کی تعداد میں تیار کیں جاتیں ہیں۔ نہیں مخصوص قسم کے ٹین سے بنایا جاتا ہے چمنی کے لیے ری یوزایبل میٹیرل بھی بعض اوقات استعمال ہوتا ہے۔ اب مختلف دھاتوں سے بنی جدید سٹائل کی لالٹینوں نے ان مخصوص لالٹینوں کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف یونيورسٹيوں میں رمضان سپیشل لیکچز نصاب کا حصہ ہیں اور رمضان المبار کے مہینے میں ان کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ عملی مظاہرہ بھی کیا جا سکے۔

ایران

ایران میں ایک مخصوص روٹی جسے ”چائی چوک“ کہتے ہیں خاص طور پر افطاری کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دستر خوان سادہ اشیا پر مشتمل ہوتا ہے۔ کاروبار کے اوقات صرف ڈھائی گھنٹے کر دئیے جاتے ہیں تا کہ عبادات سے لطف اندوز ہوا جاۓ۔

ملائشیا

یہاں نماز و تراویح کے بعد ڈنر کا اہتمام ہوتا ہے جس میں ”مورے“ نام کا مخصوص روایتی پکوان اور چائے پکوڑے شامل ہیں۔

اسی طرح فلسطینی رمضان میں آتش بازی کر کے مہینے کا استقبال کرتے ہیں۔ انڈونیشیا, سوڈان اور مشرق وسطی میں بھی نگل بجا کر سحری و افطاری کی لیی جگایا جاتا ہے۔

یہ روایات الارم کی دور میں بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں اور اپنےکلچر کی اگلی نسلوں کو منتقلی کے لیے ان قدیم اور خوبصورت مذہبی روایات کو ذندہ رکھنا بے حد ضروری ہے۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں