558

زن سے نازن

تحریر شئیر کریں

زن سے نازن بننے تک کا سفر گجرات کی مریم کی کہانی میں قدم قدم پہ ملے گا

زندگی کا ہر دن ایک نیا امتحان لیے طلوع ہو رہا ہے۔فتنے درفتنے انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ایسی ایسی بھیانک کہانیاں جنم لے رہیں ہیں کہ کسی کان نے نا سنیں اور نا دیکھیں، ایسی ہی کہانی گجرات کی بیٹی مریم کی بھی سننے میں آئی ہے۔اتنی خواری اور اتنی رسوائی کہ الاماں۔۔ کچھ بیٹیاں اپنے بخت اپنے ہاتھوں کالے کرکے اپنے نام ابدی رسوائی لکھ جاتیں ہیں۔

مریم کی کہانی ہمارے معاشرے کا وہ المیہ ہے جو اب شاذونادر نہیں ہر روز کہیں نا کہیں وقوع پزیر ہو رہا ہے۔میرا جسم میری مرضی کے نتائج مریم جیسی بیٹیوں کی رسوائی بھری موت پر منتج ہوتے ہیں۔بات مرجانے سے ختم نہیں ہو گی بلکہ جب تک اس کے والدین بہن بھائی زندہ ہیں اس دکھ اور کرب کو قطرہ پیتے رہیں گے۔
کچھ سوال اپنے اندر بڑے تلخ ہوتے ہیں اتنے تلخ کہ لکھتے ہوۓ میرے ہاتھوں کی انگلیاں فگار ہونے لگی ہیں۔میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ وہ علم جس کے حصول کے لیے مریم جیسی بیٹیاں گھروں سے نکل کر اسامہ جیسے لوگوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتیں ہیں۔کیا ایسے علم سے محرومی بہتر نہیں ہے۔بقول اقبالؒ

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اس علم کو ارباب نظر موت

عورت اگر دین سے بے بہرہ ہو کر دنیاوی علم کے حصول میں کوشاں ہوتی ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اصلاح کی بجاۓ فساد فی الارض کا باعث بنے۔اور یقینا بنتی ہے اور بن رہی ہے۔تو پھر ایسے علم سے محرومی ہزار درجے بہتر ہے۔ایسےعلماء اور سکالرز ہر دور میں اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں اگرچہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ۔۔مگر ہوتے ضرور ہیں۔مگر المیہ یہ کہ نگار خانے میں طوطی کی کون سنتا۔۔۔

یہ بھی پڑھیے

مثبت مسلمان خاتون کی طاقت

دین کا علم عورت کو عورت سے آگاہ کرتا ہے اور دنیا کا علم عورت کو عورت ہی سے بیگانہ کرتا چلا جا رہا ہے۔یہاں علم سے محرومی کی بات نہیں ہو رہی علم کی اہمیت اپنی جگہ ۔۔مگر علم کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔یونیورسٹیوں میں اگر پروفیسرز کی مکروہ نظروں سے بچ بھی جائیں تو کلاس فیلوز کے ہتھے چڑھ جاتیں ہیں۔بڑھتی ہوئی آزادی اور بے راہ روی اور انٹرنیٹ نے نوجوان نسل کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔نکاح سستا اور زنا مہنگا ہونے سے مریم جیسے کیس بڑھیں گے ، کم نہیں ہوں گے۔
ایسے میں گھر وں سے بایر رہ کر پڑھنا میرا نہیں خیال کہ اس کی اجازت ہونی چاہیے۔گھر والوں کی نگرانی میں یہ کام کیا جا سکتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو دین کا علم ضرور دیں انھیں حلال حرام کا فرق ضرور بتائیں۔انھیں بتائیں کہ آپ کی حدیں کیا ہیں۔
ایک واقعہ کہیں پڑھا تھا نا جانے کیوں یاد آرہا۔۔ایک باپ نے اپنی بیٹی کو کالج بھیجتے ہوۓ پہلے دن نصیحت کی کہ بیٹا ہم تمھیں پڑھنے بھیج رہے ہیں اگر تمھیں کوئی پسند آ جاۓ تو آ کر مجھے بتانا ،میں اس سے تمہارا نکاح کر دوں گا، اگر اس کے علاوہ کوئی تعلق بنانے کی کوشش کی تو زمین ۔کے اوپر تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔

کتنے باپ ہیں جو اپنی بیٹی کو کالج بھیجتے ہوۓ اس کی زن سے نازن کا فرق سمجھاتے ہیں۔ بتاتے ہیں ؟

بیگانہ رہے دین سے اگر مدرسہ ء زن

ہےعشق و محبت کے لیے علم ہو ہنر موت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں