340

سائنس کا عالمی دن

تحریر شئیر کریں

سائنس کا عالمی دن

10 نومبر ورلڈ سائنس ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ دن یاد دہانی کرواتا ہے کہ سائنس کا مقصد انسانی فلاح ہے نا کہ تخریب ۔جہاں تک فلاح کی بات آتی ہے اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کو سہولت مہیا کرے۔بلاشبہ سائنس کی ترقی سے دنیا کو ان گنت فوائد حاصل ہوۓ ہیں۔انیسویں صدی سائنس کی آمد کی صدی جبکہ اکیسویں صدی سائنسی ایجادات میں کمال کی صدی ہے۔غور کریں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہر چیز اپنے کمال پہ پہنچتی دکھائی دیتی ہے۔بلاشبہ اکمل ذات اللہ کی ہے مگر انسانی دماغ اپنی ساخت کے عروج پر ہے جو کہ اشارہ بھی ہے کہ انسان اپنے انجام کے قریب ہے
قرآن صدیوں پہلے انسانی فلاح کا بتا چکا۔ارشاد باری تعالی ہے جس کا مفہوم ہے کہ باقی وہ رہے گا جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہے۔جہاں تک سائنس کی بات ہے تو قرآن نے حضرت آدم ؑ کے بارے میں بیان کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ہم نے آدم کو ہر چیز سکھائی کلھا شیء کی تفسیر میں مفسرین نے عندیہ دیا ہے کہ اس سے مراد سائنسی علوم ہیں۔اس لحاظ سے آسمانی کتابوں میں قرآن واحد کتاب ہے جس نے سائنسی علوم کو ان صرف بیان کیا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔جو کہ ہم مسلمانوں کے لیے بڑے فخرکی بات ہے۔اسلام نے انسانی فلاح کا نظریہ بڑی شدو مد سے پیش کیا ہے۔سائنسی علوم میں پیش رفت کی ابتداء میں تمام مسلمان سائنس دانوں کے نام نمایاں نظرآئیں گے۔ابن الہثیم ،البیرونی اورابن سینا جیسے لوگ وہ خزینہ ہیں جنہوں نے سائنسی علوم کو دریافت کیا۔جو آج مسلمانوں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
جہاں تک جدید دور کی بات ہے مسلمان ان علوم میں بہت پیچھے ہیں۔یہی ان کے زوال کا سبب ہے۔ان کا تعلیمی نظام دماغوں کو تالے لگا رہا ہے سوال یہ ہے کہ کسء ایسے اسم اعظم کوئی ایسی تدبیر جو ان بند دماغوں کے قفل کھول سکے۔یقینا وہ قفل وہ شاہ کلید قرآن ہے۔امت کو اپنا کھویا ہوا عروج حاصل کرنا ہے تو پھر سے اس آفاقی کتاب میں پناہ لینی ہوگی جو تمام علوم کا خزینہ ہے۔

سائنس کا عالمی دن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں