282

سفر معراج

تحریر شئیر کریں

تحر یر: آمنہ راجپوت

سفر معراج،
رجب کا مہینہ اسلامی کلینڈر کا ساتواں مہینہ ہے،اس مہینے کے آنے کے بعد رمضان المبارک کے مہینے کی منزل قریب نظر آنے لگتی ہے ،
لفظ معراج عروج سے نکلا ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔قرآن مجید معراج کو لفظ اسرا سے تعبیر کیا ہے ،جس کے معنی٫ رات کو چلانے یا لے جانے کے ہیں،قران پاک میں معراج کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ النجم میں آیا ہے،” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے ماحول میں تم (اللہ) نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک اللہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے’’
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں کے سردار ہیں ایسے ہی آپ کا دین بھی تمام ادیان پر فوقیت رکھتا ہے،اللہ تعالی نے اپنے آخری دین اسلام کو مبرہن کرنے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معجزے بھی ایسے عطا فرمائے جو آپ کی عظمت صرف اس جہاں میں نہیں بلکہ تمام جہانوں میں ہوں ،ان معجزات کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے،ایک ہماری آخری کتاب قرآن کریم ہے جو نزول ہونے کے بعد ہر دور میں زندہ و تابندہ چلا آ رہا ہے ،دوسرا معجزہ دہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوسر عرش سربلند کردیا یہ معراج ہے،
نبوت کے تیرہویں سال جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک ’53 برس تھی رجب کی 27 تاریخ بدھ کی شب کو یہ واقعہ پیش آیا، امام بخاری حضرت انس بن مالک سے روایت ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا میں مکہ میں تھا، حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے میرے سینے کو چاک کیا میرا دل باہر نکالا اس کو ایمان و حکمت سے بھرے ہوئے سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھویا دوبارہ واپس رکھ دیا، پھر سفید رنگ کا ایک براق لایا گیا جو گدھے سےبڑا اور خچر سے چھوٹا تھا وہ اس قدر سبک رفتار تھا جہاں تک انسان کی نظر پڑتی وہ اپنے پاؤں وہاں رکھتا براق پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر معراج روانہ ہوئے، سب سے پہلے گزر یثرب پر ہوا جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے کہنے پر نماز ادا کی، اور یہی جگہ بعد میں آپ کا مسکن بنی، جب آپ ہجرت فرما کر یثرب تشریف لاہے، یثرب کے بجائے مدینہ النبی کہلائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے حضرت جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے آسمان پر گئے اس طرح یکے بعد دیگرے ساتویں آسمان تک لے جایا گیا ہر آسمان پر مقربین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کرواتے گے پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات کی دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات کی تیسرے پر حضرت یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے آسمان حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقاتیں کیں، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر حضرت موسی علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، اور ہر نبی سے راستے میں دعا سلام ہوتی رہی، سب انبیاء نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا جہاں پرحضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اس سے آگے جانا میرے بس میں نہیں ہے اس کے اوپر رب کا عرش ہے، سدرہ بیری کے درخت کو کہتے ہیں اس مقام تک پہنچے، جہاں قلم قدرت کے چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس درخت پر شان ربانی کا پر تو تھا۔ جس میں حسن کی وہ کیفیت پیدا ہوئی جس کو کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی اور اسے رنگ برنگے ایسے انوار کی بجلی نظر آئیں جن کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے، یہی وہ مقام ہے جہاں سے چیزیں نیچے زمین پر اترتی ہیں، اور زمین سے چڑھ کر اوپر وہاں جاتی ہیں، جہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام اپنی اصلی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نمودار ہوئے، ان کے چھ سو پرتھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بیت المعور کو بھی دیکھا۔ یہ آسمانی کعبہ ہے جو زمین کعبہ کے اوپر ساتویں آسمان پر ہے، بیت المعور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرنے آتے ہیں جو فرشتے ایک بار طواف کرلے ان کی باری قیامت تک نہیں آ سکے گی،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمانوں کی سیر و مشاہدات سے فارغ ہوئے تو واپسی پر انبیائے کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء بیت المقدس میں تشریف لائے تب حضرت جبرئیل علیہ السلام نےسب انبیاء کرام کو نماز ادا کرنے کو کہا امامت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی، تمام انبیائے کرام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا عملی ثبوت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ بیت المقدس سے رخصت ہوئے براق پر سوار ہو کر مکہ معظمہ پہنچ گئے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں