سوشل میڈیا پر فحاشی کا طوفان اور مسلمان
بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد
2000ء کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں کچھ ایسی ویب سائٹ سامنے آئیں۔ جنہوں نے نہ صرف لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا بلکہ ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے کو بھی ختم کر دیا۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دیگر اسنیپ چیٹ جیسی سائٹس نے مرد و خواتین، نوجوان اور بوڑھوں کے ساتھ بچوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ہمیں یہ چیز ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ جہاں کسی چیز کے فوائد ہوتے ہیں، وہاں نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں ہماری زندگی کو سہل اور آسان بنا دیا ہے اور معاشرے اور لوگوں پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں وہاں اس کے منفی اثرات بھی دیکھنے میں آئے ہیں
۔ سوشل میڈیا نے جہاں عام لوگوں کو آواز فراہم کی ہے وہیں بہت سے لوگ اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تربیت کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کے باعث سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں میں مسلمان مرد خصوصاََ خواتین کو کس قسم کی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے،یہ کبھی سوچا ہے کسی ذی شعور نے؟
سوشل میڈیا پر فعال اور متحرک رہنے والی ایک باپردہ خاتون ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انتہائی دل شکستگی کے عالم میں سوشل میڈیا پر عزتیں اچھالنے کے عمل پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:
”جب بھی میں اپنا ٹوئٹر اکاﺅنٹ چیک کرتی ہوں تو لگتا ہے کہ یہ بہت ہی گندا غلیظ ہوتا جا رہا ہے، بہت زیادہ گالیاں اور بہت سی منفی باتیں اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا ایکس ریٹڈ (فحش) مواد سے بھرا ہوتا ہے، یہ سب دیکھ کر مجھے شدید صدمہ پہنچتا ہے۔“
ملک میں ابلاغ و نشریات کے اداروں بالخصوص الیکٹرانک میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور فحش مواد کا طوفان برپا ہے۔ بچے بچے کے ہاتھ میں جدید موبائل فون موجود ہے، ٹیکنالوجی نے اپنی افادیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اخلاقی زوال پذیری کا ایک بڑا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ مصنوعات کی فروخت کے نام پر قوم کی عزت بیچی جارہی ہے۔
سوشل میڈیا کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے، جسے ہم سب جانتے ہیں لیکن ہم تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔ کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کو زیادہ پریشان اور افسردہ کرتا ہے؟ نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق یہ ایک متنازعہ سوال بن گیا ہے، کیونکہ تحقیقات میں اس کے متنوع نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔
18 سالہ نیناں کی لائیو ڈاٹ می، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اوپن پروفائلز تھیں جہاں اس کے ہزاروں فالوورز تھے۔ بقول اس کے اسے فحش تصاویر بھیجی گئیں جن پر اس کا چہرہ چسپاں تھا اور اس کے گھر کا پتا درج تھا۔ جبکہ ایک دوسری پوسٹ میں لکھا تھا ’مرجاؤ‘۔
فحاشی اور عریانیت اسلامی معاشرے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے سامنے پڑوسی ممالک کی وہ بھیانک تصویریں ابھر آتی ہیں، جہاں عریانیت اور بےحیائی اپنے عروج پر ہیں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جرائم اخبارات، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔
جن کو پڑھ کر یا سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مادر پدر آزاد معاشرے کی اس بھیانک تصویر کو دیکھنا، سننا اور اسے برداشت کرنا ہمارے لیے ایک عام سی بات ہوتی جا رہی ہے، کیوں کہ ہم جس سماج میں سانس لے رہے ہیں، وہ ایک بیمار اور سڑا ہوا معاشرہ ہے اور اس کی بدبو اور گندگی کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سماج میں پھیلی ہوئی عریانیت اور بے حیائی کا چلن اتنی تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے کہ اسے دیکھ کر انسانیت بھی انگشتِ بدنداں ہوتی ہے۔ کوئی بھی برائی جب اتنی بڑھ جائے کہ سماج کے لوگ اسے باآسانی گوارا کرنے لگیں تو پھر وہ برائی عام رواج بن کر سماج میں رہنے والوں کے اندر گھر کرنے لگتی ہے اور اسے خراب نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا جو چیز بری سمجھی ہی نہ جائے تو پھر اس سے بچنا کیونکر ممکن ہوگا؟
گو کہ پاکستان سمیت چند اسلامی ممالک میں “فحش ویڈیوز” اور “فحش ویب سائٹس” جیسی سوشل نیٹ ورکنگ تک عوام کی رسائی بند ہے تاہم شہری اس کے باوجود پراکسی سافٹ ویئرز کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پہلے لوگ زنا کاری کے لیے کوٹھوں پر جایا کرتے تھے۔ گناہ ڈر چھپ کر کیے جاتے تھے۔ پکڑے جانے کا خوف لرزاں کیے رہتا تھا مگر آہ اب گھر گھر میں موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹک ٹاک اور دیگر پر کھلے عام عریانیت و فحاشی کا بازار گرم ہے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی مسلمانوں کی ماں، بہن بہو بیٹیاں ٹک ٹاک پر فحش گانوں پر تھرک رہی ہیں۔ باریش مرد ، جوان لڑکے، عمر رسیدہ آدمی شارٹ ویڈیوز میں عجیب وغریب حرکتیں کر کے ذومعنی و قابل اعتراض جملے بول کر معاشرے میں بےحیائی اور برائی و فروغ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام نہ صرف زنا کو حرام قرار دیتا ہے ، بلکہ اس کے دواعی کو بھی حرام قرار دیتا ہے، اور ایسی تمام اشیاء اور امور پر کڑی پاپندی لگا دیتا ہے جو آگے چل کر زنا کا سبب بن سکتے ہوں ،چناچہ نامحرم عورتوں یا غیر محرم مردوں کے ساتھ باہمی میل ملاپ وغیرہ حرام ہیں، کیوں کہ یہ امور بھی انسان کے جذبات کو ابھارتے اور اس کی شہوانی قوتوں کے انتشار کا سبب بنتے ہیں ،بلکہ اسلام تو شہوانی قوت کو تعمیری کاموں میں استعمال کرتا ہے اور اسے ایک خاص نظم و ضبط کے تابع کرتا ہے ، اس کے بےجا استعمال کو حرام قرار دیتا ہے ،کیوں کہ اس کا بےجا استعمال صحت انسانی کو برباد کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بد اخلاقی ،
بےچینی ، اور خانگی جھگڑوں کا سبب بنتا ہے۔ فحاشی اور عریانی ایسی تباہ کن چیز ہے ،اگر کسی معاشرے میں عام ہوجائے تو اسے صفحۂ ہستی سے مٹا کر ہی دم لیتی ہے۔ آج قوم لوط پھر زندہ ہوگئی ہے۔ انسان ایسے ایسے قبیح فعل و حرکات میں مشغول ہوگیا ہے کہ حیوان بھی شرما جائے۔ ہر روز ایک نیا فتنہ جنم لے رہا ہے۔
اس حوالے سے احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں کی طرف رہنمائی کرنے والا، اس رہنمائی کی وجہ سے گناہ میں پڑ جانے والے کے ساتھ وبال میں شریک ہوتا ہے۔ نیز سوشل میڈیا پر کُھل کر گناہ اور فحاشی کی باتیں،
تصاویر اور ویڈیو وغیرہ پھیلانا اس وجہ سے بھی خطرناک ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کُھلے عام گناہ کرنے والے پسند نہیں، جیسا کہ حدیثِ شریف میں آتا ہے کہ: “میرا ہر امتی معاف کیا جا سکتا ہے، لیکن مجاہرین (اعلانیہ گناہ کرنے والے) معاف نہیں کیے جائیں گے۔“
لہٰذا جو سوشل میڈیا پر بُری بات پھیلائے گا، جہاں تک وہ بات پہنچے گی اس کی اشاعت کے گناہ میں پہلا شخص بھی شریک ہوگا، یہاں تک کہ وہ سچی توبہ کر لے اور اپنے عمل سے باز آجائے، یہ بھی ملحوظ رہے کہ فحش ویڈیو یا تصاویر سے قطعّ نظر کسی بھی جان دار کی تصویر یا ویڈیو بنانا، دیکھنا یا شیئر کرنا بھی جائز نہیں ہے، لہٰذا اگر ایسے لوگ منع کرنے کے باوجود باز نہ آئیں تو گروپ ایڈمن انہیں گروپ سے خارج کردے، یا انفرادی مکالمہ ہو تو ایسے افراد کا نمبر بلاک کیا جاسکتا ہے، یہ بات قطع تعلقی میں نہیں آئے گی۔
وہ نادان لوگ جو سوشل میڈیا وغیرہ پر فحاشی پھیلاتے ہیں ذرا سنیے قرآن پاک کیا کہتا ہے۔
ترجمہ: ”جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں ان کے لیے عذاب ہے دردناک دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ نرمی کرنے والا ہے مہربان تو کیا کچھ نہ ہوتا ،
اے ایمان والو ! نہ چلو قدموں پر شیطان کے اور جو کوئی چلے گا قدموں پر شیطان کے سو وہ تو یہی بتلائے گا بےحیائی اور بری بات، اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت تو نہ سنورتا تم میں ایک شخص بھی کبھی، لیکن اللہ سنوارتا ہے جس کو چاہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔“
[النور: 19، 21]
اس وقت آئینِ پاکستان کی روشنی میں ترتیب دیئے گئے پیمرا قوانین کا مؤثر عملی نفاذ، اشتہارات میں عورت کے وقار اور اخلاقی حدود کی پاسداری کے ساتھ ڈراموں میں رشتوں کے تقدس اور خاندانی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرنے، مخصوص مذہبی ایام کو کمرشلائز کرنے کی بجائے ان کی دینی روح اور تقدس کو بنیاد بناتے ہوئے معاشرے کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جانا اشد ضروری ہے۔ یہی نہیں پی ٹی وی سمیت تمام نجی چیبلز، موبائل فونز اور انٹرنیٹ پر اخلاق سوز مواد کی تشہیر کی روک تھام پر مہم چلائی جائے۔ مسلمان بچے بچیوں کے لیے دین و اخلاقیات پر مبنی تفریحی اور تعلیمی نشریات کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اہم تجاویز اور مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ اسلام، پاکستان اور عوام دشمن سوشل میڈیا پر عریانیت و فحاشی پھیلانے والی مافیا کو سکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے اس ناپاک عمل میں ملوث تمام مرکزی کرداروں کو بے نقاب کر کے سخت سزا دی جائے، تاکہ آئندہ پاکستان میں فحاشی کا بازار گرم کرنے والی سوشل میڈیا نامی آزاد منش بائی کو لگام ڈالی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر فحاشی کا طوفان اور مسلمان