545

سکون

تحریر شئیر کریں

دنیا بھر سے پینٹنگز اس مقابلے میں بھیجی گئ تھی۔دنیا کے بہترین مصوروں نے اس مقابلے میں حصہ لے کر اس میں جان ڈال دی تھی۔پینٹنگز کا موضوع تھا سکون۔۔۔

ججز نے تمام پینٹنگز اٹھائیں۔۔چیک کیں سبھی لاجواب تھیں۔فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ایک بار پھر پینٹنگز کو چیک کیا گیا ایک پینٹنگ تھی مگر اس میں سکون کی بجاۓ شور شرابہ دکھائی دے رہا تھا۔بے ہنگم ٹریفک اور سامنےموجیں ابلتا سمندر تھا۔اس کے سامنے ایک کٹیا تھی جس کی چھت ایک طرف لڑھک رہی تھی۔۔۔۔سارے منظر ہی بے ترتیب اور بے ہنگم تھے۔اچانک اس کٹیا کے ایک منظر نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا گیا۔کچھ تھا اس منظر میں سب کی نظریں اب اس پینٹنگ پہ تھی جو اول انعام کے لیے منتخب ہونے جا رہی تھی۔۔۔۔

قارئین اکرام آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ اس بے ہنگم پینٹنگ میں ایسا کیا تھا جو سب کو منفرد لگا۔آپ کا تجسس بڑھ رہا ہے اس کو یہی پہ ختم کرتے ہیں۔اس پینٹگ کی گرتی کٹیا میں ایک کھڑکی تھی جس میں ایک آدمی کھڑا تھا اس کے چہرے پہ بلا کا سکون تھا۔ایسا سکون جاےباہر کے تمام مناظر بھی بے سکون نا کرپا رہے تھے ۔وہ اس شورو غل میں بھی اپنی دنیا بساۓ کھڑا تھا۔

یہ منظر یہ آدمی اور اس کے چہرے پہ چھایا سکون اور اس

یہ بھی پڑھیے

دماغ کو پرسکون کیسے کر سکتے ہیں؟

چہرے سے جھانکتی دو آنکھیں ۔۔۔۔۔ دراصل پینٹنگ نہیں تھی ایک پورا فلسفہ تھا جسے پینٹ کر دیا گیا تھا۔وہ فلسفہ نیا نا تھا بلکہ صدیوں سے رائج تھا۔بدھا کی تہذیب ہو یا ہندووں کا پنڈت دور جدید کا لبرل طبقہ ہو یا مذہب کی پیروی میں برسر پیکار لوگ سبھی اس سے متفق اور اس کے حصول میں کوشاں نظر آتے ہیں۔سکون جب انسان کے اندر ہوتا ہے تو باہر کا شور اسے کچھ نہیں کہتا۔جدید سائیکالوجی اسی پہ بیس کرتی ہے۔اور اس کے حصول کے لیے گوتم بدھ جنگلوں میں مارا مارا پھرتا تھا پھر اسے گیان مل گیا وہ جان گیا کہ دماغ کے سوئچ بٹن کو آف کر کے ہی اندر کا سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مراقبے میڈیٹیشن اور ڈیپ بریتھنگ یہ سب جدید طریقے اندر کے سکون کے لیے کیے جاتے ہیں۔تاکہ باہر سے ہٹ کر اندر کی دنیا کو پرسکون کیا جا سکے۔وہی شخص سب سے کامیاب ہے جو اس کوشش میں کامیاب رہتا ہے۔وہ گوتم بدھ بن جاتا ہے اور اسے سکون گیان کر دیا جاتا ہے۔

پینٹنگ مقابلے کا یہ واقعہ جاوید چودھری کے کالم میں پڑھا تھا۔سوچا اس کو اپنے کالم کا موضوع بناتے ہیں۔کیونکہ یہ موضوع ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کا موضوع ہے جو ڈپریشن اینگزائٹی اور سٹریس میں داخل ہوچکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔
قرآن کہتا ہے جس نے ایک شخص کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔۔ اگر یہ تحریر کسی ایک شخص کے من کو بھاتی ہے تو میرا مقصد پورا ہوگیا۔
بس کرنا یہ ہے کہ اپنے دماغ کی بتی کو آف کر کے اندر کی بتی کو آن کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں