صحت مند ناشتہ صحت مند زندگی کی پہچان ہے۔مشہور معقولہ ہے کھاؤ گے نہیں تو بڑے کیسے ہوگے؟بچوں سے بولا جانے والا یہ جملہ اکثر بڑے اپنے بارے میں اگنور کر رہے ہوتے ہیں۔بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں اور اولاد کی پرورش کی تگ و دو میں والدین اپنا آپ کہیں بہت دور چھوڑ جاتے ہیں۔جو انکی صحت کے لیے اچھی روش نہیں۔متوازن غذ اکا حصول صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔
اچھی غذا کی بات کی جاۓ تو ان میں سرفہرست ایک اچھا ناشتہ ہوتا ہے جس سے دن کا آغاز ہوتا ہے۔اگر ناشتہ اچھا ہوگا تو دن بھر کے کاموں کے لیے اچھی انرجی میسر آۓ گی۔یہ ہمارے میٹابولزم نظام کی ابتداء یے۔جس سے ہمارے جسم کی کیلوریز کا نظام بہتر ہوتا ہے۔اگر کلوریز بہتر نہیں ہوگیں تو باقی نظام بھی متاثر ہوں گے۔ایک اریسرچ کے مطابق بھر پور ناشتہ ہماری یاداشت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ہمارے موڈ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اور سٹریس لیول بھی کم ہوتا ہے۔اس لیے ہمارے دن کا آغاذ ایک اچھے اور بھر پور ناشتے سے ہونا چاہیے۔ذیل میں ان صحت بخش ناشتوں کا مختصر جائزہ لیا جاۓ گا جو صحت کے لیے مفید اور توانا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ناشتے میں تین کھجور کھائیں اور ان گنت فوائد پائیں۔
دلیہ
دلیہ صدیوں پرانی ڈش ہے جو بچوں اور بوڑھوں کو دی جاتی ہے۔کیونکہ یہ غذائیت سے بھر پور اور ذودہضم ہوتی ہے۔دلیہ چاہے گندم کا ہو یا جو کا دونوں مفید ہیں۔موسم گرما میں جو کا دلیہ زیادہ مفید ہوتا ہے۔کم کیلوریز کے ساتھ ایک بھر پور ناشتہ۔یہ جسم کی کھوئی پاور بحال کرتا یے بیماری میں بھی مفید ہے۔بیمار کے دل کو طاقت دیتا ہے۔
انڈا
ناشتے میں انڈا ایک صحت بخش اور غذائیت سے بھر پور غذا ہے۔انڈا پروٹین کا گھر ہےعلی الصبح انڈا کھانا پروٹین کے حصول کا بہترین زریعہ ہے۔سردیوں میں اس کا استعمال سردی سے بچاتا ہے۔
سوجی کا حلوہ
سوجی سے بنی ہوئی کھیر ہو یا حلوہ یہ دونوں بہترین ناشتہ ہیں۔سوجی بہت غذائیت بخش چیز ہے۔صبح سویرے اس کا استعمال بہت مفید ہے
سوجی جسم کو حرارت پہنچاتی ہے اور جما ہوا نزلہ زکام باہر نکالتی ہے۔یہ چسٹ انفیکشن میں بھی مفید ہے۔
مکھن اور شہد
مکھن اور شہد دونوں کی افادیت مسلم ہے۔دونوں اپنی اپنی جگہ آرگینک اور بہترین غذا ہیں۔صدیوں سے آزمودہ بھی۔ناشتے میں ان دونوں کا استعمال فائدے مند اور شفا بخش ہے۔سردی میں شہد کا استعمال زیادہ ہوتا ہے جبکہ گرمی میں مکھن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
ساگو دانہ
ساگودانہ بھی اپنے اندر بہت سے فوائد کا حامل ہے۔اس کی کھیر کمزوری کا علاج ہے۔ زودہضم ہوتا ہے۔قد بڑھانے کے لیے اس کا استعمال اکسیر ہے۔خون بناتا ہے اور وزن میں بڑھوتڑی کا باعث بھی۔اس کا ناشتہ میں استعمال فیس کو شادابی عطا کرتا ہے۔
دودھ
دودھ سپر فوڈ میں شامل ہے۔جس کی اہمیت مسلم ہے۔اس کا پنیا ہر عمر میں مفید ہے۔بچوں کے لیے اس کا ستعمال لازم ہے۔مگر ہمارے ہاں خالص دودھ کا ملنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اگر آپ افورڈ کر سکتے تو بھینس پالیں اور خالص دودھ سے بچوں کی پرورش کریں۔یہ بچوں کا حق ہے کہ ان کے والدین انھیں خالص دودھ مہیا کریں جہاں تک ہو سکے۔ناشتے میں دودھ کا ایک گلاس بہت افادیت بخش ہے۔اس کی تاثیر ٹھنڈی ہونے کی وجہ سے بلڈ پریشر میں بھی مفید ہے۔سکن کو گلو کرتا ہے۔آنتوں سے گندے مادے نکالتا ہے۔رافع قبض ہے۔خوبصورتی کے لیے چہرے پہ دودھ کا استعمال صدیوں سے رائج ہے۔قلوپطرہ مصر کی ملکہ تھی اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ دودھ سے نہایا کرتی تھی۔الرجی کی صورت میں صابن کی جگہ دودھ سے جلد کو ملیں۔یہ جلد کی خشکی کا آزمودہ نسخہ ہے۔
کھجور
جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ناشتے میں کھجور بہت فائدے کی حامل ہے۔اس میں موجود غذائی اجزاء میگنیشیم کوپر اور زنک فولاد انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔جو کہ بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔تین کھجور علی الصبح کھانے سے انگنت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔یہ نبی کریم۔ﷺ کی سنت بھی ہے۔آپ ﷺ ناشتے میں کھجور کھانا پسند کرتے تھے۔
جدید دور کے ناشتے ڈبل روٹی وغیرہ معدے کے لیے مفید نہیں۔دوسرا اس میں کیلوریز بہت زیادہ ہیں جو موٹاپے کی طرف لے جاتی ہے۔ان غیر معیاری ناشتوں سے جان چھڑوائیں اور ان کا متبادل ڈھونڈیں۔اگر آپ کے پاس وقت کم ہے اور جاب پر بھی جانا ہے تو ایک دودھ کے گلاس میں دو چمچ جو کا دلیہ ڈالیں اور پی لیں۔دہی ایک پیالی کھا لیں۔بوائل انڈہ لے لیں۔یہ سب جدید ناشتوں سے کہیں بہتر ہیں۔