فطرت سے بغاوت پہ آمادہ ہوا تو
🏳️🌈🏳️🌈🏳️🌈🏳️🌈
یہ رنگ دیکھنے میں تو صرف ایک قوس و قزاح کے رنگ لگتے ہیں لیکن قدرت کی قوس و قزاح جیسی خوبصورت صناعی کو کس کریہہ چیز میں بدل کر پیش کیا گیا ہے اس کا ہمیں شاید ادراک نہیں ہے۔
فطرت سے، خداوند کریم سے، اس کی تخلیق سے جنگ
ہمارے زہنوں، ہمارے گھروں، ہماری نسلوں کی اس طرح غیر محسوس طریقے سے ذہن سازی کی جارہی ہے کہ ہمیں اس بات کو سمجھنا اور سمجھانا مشکل ہوگیا ہے لیکن یہ کام لازمی بھی ہے.
برائی سے صرف خود بچنے کا ہی حکم نہیں ہے بلکہ اپنے پیاروں کو، ارد گرد کے لوگوں کو بھی اس سے ہمیں بچانا ہے۔
ایک نظر نہ آنے والی آگ،بارش کے قطرے جس طرح گرتے ہیں اس سے بھی زیادہ تیزی بلکہ بہت تیزی سے فتنے ہمارے گھروں کو تباہ کرنے آرہے ہیں۔*
اس پر کافی جگہ کافی بار بات ہوئی۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ یا تو ہم سمجھے نہیں ہیں اس کے خطرات کو یا پھر ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔*
یہ رنگ کوئی عام رنگ نہیں ہیں
انہیں جن چیزوں سے جوڑ کر پیش کیا جارہا ہے وہ انتہائی کریہہ چیز ہے۔
بچوں کے کارٹونز، کوکنگ پروگرامز،لائبریری میں بکس،موبائل کورز،پرسز غرض ہر جگہ ہر چیز میں اپکو یہ رنگ نظر آئیں گے۔لیکن شاید ہم نے کبھی غور ہی نہ کیا ہو کہ اصل اس کی تھیم ہے کیا؟ یہ صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ان رنگوں کی آڑ میں فطرت سے کھیل ہے ، شیطانی چال ہے۔اور یہ رنگ لیئے ہی اسی لیئے گئے ہیں کہ اسے صرف ایک رنگ سمجھ کر اس تھیم میں غیر محسوس طریقے سے انوالوو ہوجائیں۔ذہن بنتا رہے اور جب سمجھنے اور روکنے کا وقت آئے تو تب تک بے حس ہوچکی ہوں اور پانی سر کے اوپر سے گزر چکا ہو۔
یہ رنگوں کا کھیل ہے کیا؟؟
یہ اصل میں LGBT کا سائن ہے۔اور اس کا کیا مطلب ہے تو یہ آپکے علم میں ہوگا۔نہیں ہے تو بتائے دیتی ہوں یعنی کہ
فطرت سے جنگ
کہ مرد کوخدانخواستہ عورت
اورعورت کو مرد جیسا محسوس ہو۔
معاشرے کو سوچ سمجھ کر شیطانی چال چل کر تباہ کرنا۔
جیسے میرا جسم میری مرضی والی کیفیت۔*
یہ ایک مینٹلی ڈس آرڈر ہے اور اسکا علاج کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے بجائے اس کو معاشرے میں آزادی سے مزید پروان چڑھانا جارہا ہے۔
ایک مرد صرف یہ کہہ دے کہہ اسے عورت والی فیل آرہی ہے تو بس اسے پھر اسی میں گنا جائے گا بجائے اس کے کہ اس کو درست کیا جائے* ۔
اور اس میں،میں سمجھتی ہوں جو غذائیں بھی مل رہی ہیں اس میں اور میڈیا کے پروگرام میں بھی ایسی چیزیں شامل کی جاتی ہیں کہ آپ اچھے خاصے انسان سے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیئے کچھ بھی اول جلول بن جائیں۔*
اس امت میں ہر وہ گناہ پریکٹس ہو رہا ہے کہ جس پہ پچھلی امتوں کو عذاب دیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بدولت ہم بچے ہوئے ہیں۔*
ٹرانس جینڈر، تیسری جنس کی آڑ میں ایک مرد خود کو آپریشن کے ذریعے عورت میں بدل دے اور عورت خود کو مرد میں بدل دے یہ اسلام کے خلاف ہے۔ اب اس سے ہو گا یہ کہ ایک مرد جو کہ بائیولاجیکلی مرد ہے لیکن وہ خود کو عورت تصور کرے گا عورت رجسٹر کروائے گا تو قانونا اسے عورت سمجھا جائے گا اور اسی طرح عورت کو مرد۔اور اس کے نتیجے میں ہم جنس پرستی وجود میں آئے گی جو کہ اسلام کے خلاف ہے۔اس سے وراثت کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ایک بندہ نادرا میں جاتا ہے تو اسکے تصورات کی بنا پر نہیں بلکہ میڈیکل بورڈ کی ڈیٹیل پر اس کا ڈاکومنٹس میں جینڈر بدل دے گا۔
آپ اپنے بچوں کی شادی کرنے کھڑے ہوں تو آپکو یہ نہیں پتہ ہو گا کہ اگلا فرد ہے کون۔آپ کسی محفل میں، کسی جگہ بھی پر اعتماد طریقے سے نہیں جاسکتے.
تقریباً تیئس ہزار لوگوں نے تبدیلئ جنس کی درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔ یہ ڈیٹا نادرا کے پاس موجود ہے ۔
2018 میں سینٹ میں ایک بل آیا تھا جس کا نام تھا جنس کی تبدیلی۔جس کے نتیجے میں تین سالوں میں 16523 مرد عورتیں بن گئی اور 12000عورتیں مرد بن گئے۔
بہت مجبورا اس ٹاپک کو اتنا کھلے عام ڈسکس کرنا پڑ رہا ہے۔بہت مجبورا ۔لیکن اسوقت LGBT کے حوالے سے بچوں کے کھلونے جو میں نے اپنے گھروں میں دیکھے ہیں ،ہوش اڑا دینے والی صورتحال ہے۔ اس لئے اسے عام کرنا پڑا۔
کیونکہ اب صورتحال یہ ہے کہ شیطان اور اس کے ساتھی اپنے وار کو کامیاب کرنے کے لیئے ہم سے چار قدم آگے چل رہے ہیں اور ہماری نسلوں کو تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں*۔
اب کرنا کیا ہے*؟
کرنا یہ ہے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔اس ملک میں مسلمانوں میں تو کم از کم ایسی خلاف فطرت عمل کی گنجائش بالکل نہیں ہے ۔ تو کرنا یہ ہے کہ اپنے روابط اپنے احباب میں اپنے گھروں اپنے بچوں میں اس بات کو مناسب الفاظ میں رکھا جائے اس سے انہیں باور کرایا جائے۔اس کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر مناسب الفاظ میں آواز اٹھائی جائے اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ اس کی روک تھام کریں۔جو کہ لازمی ہے کرنا ہے کروانا ہے۔خاموش بیٹھ کر آگ کو اپنے گھر تک پہنچنے کا انتظار نہیں کرنا ہے۔
ورنہ سب تباہ ہوجائے گا اور بچنے بچانے کے لیئے کچھ بھی نہیں ہوگا۔
اللہ سے ہر دم دعا، اللہ کی رسی کو قرآن، حدیث کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔خود بھی علم سیکھنا عمل کرنا اور اس بات کو سب کو بتانا کہ اس رسی کو نہیں چھوڑنا۔ورنہ اللہ نہ کرے کہ ہم تباہی کے گڑھے میں اوندھے منہ گریں گے اور بچنے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔
فطرت سے بغاوت پہ آمادہ ہوا تو
رابعہ فوزی