294

قلم تخلیق تاریخ اور اہمیت

تحریر شئیر کریں

“ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ”
*(القلم: 1)*

قرآنِ کریم میں سورۃ القلم کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھائی، جو اس کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو تخلیق کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ لکھے۔ چنانچہ قلم نے لوحِ محفوظ پر ہر چیز کو لکھ دیا، جو قیامت تک ہونے والی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریر اور علم کی بنیاد اللہ کی مشیّت سے قائم ہوئی اور قلم اس کا پہلا ذریعہ بنا۔

قلم کی ارتقائی تاریخ

1. ابتدائی دور

انسان نے اپنی معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے سب سے پہلے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشانات بنائے۔ بعد میں، جب لکھائی کا باقاعدہ آغاز ہوا، تو مختلف اشیاء کو قلم کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

2. قدیم قلم

– *سرکنڈے (Reed Pen): 5000 قبل مسیح میں قدیم مصریوں نے پیپیرس (Papyrus) پر لکھنے کے لیے استعمال کیا۔
– مٹی کے تختے اور چاقو نما قلم میسوپوٹامیہ میں نوکدار اوزاروں سے نرم مٹی پر کندہ تحریر لکھی جاتی تھی۔
– پر کا قلم (Quill Pen) 5ویں صدی عیسوی میں پرندوں کے پروں سے بنے قلم استعمال ہونے لگے۔

3. اسلامی تہذیب میں قلم

اسلامی تاریخ میں بانس، نیب اور خطاطی کے مخصوص قلموں کا استعمال عام ہوا۔ مسلمان علماء نے علم کو محفوظ کرنے کے لیے قلم کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا اور اسلامی فنِ خطاطی وجود میں آیا۔

4. جدید قلم

فاؤنٹین پین (Fountain Pen): 19ویں صدی میں ایجاد ہوا، جس میں روشنائی ذخیرہ کی جا سکتی تھی۔
بال پین (Ballpoint Pen): 1940 میں لزلو بائرو نے بال پین ایجاد کیا۔
ڈیجیٹل قلم (Stylus): آج کے جدید دور میں ٹچ اسکرین اور ڈیجیٹل ڈیوائسزکے لیے قلم موجود ہیں۔

قلم اللہ کی پہلی تخلیقات میں سے ہے اور اس کا کام علم و تحریر کو محفوظ کرنا ہے۔ سورۃ القلم میں اس کی قسم کھانے سے اس کی عظمت اور برتری ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی تہذیب میں قلم کی بدولت ہی علم کا فروغ ہوا، اور آج بھی یہ دنیا کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

قلم تخلیق تاریخ اور اہمیت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں