ہم عموماً بچوں کی شکل، ناک، گال اور جبڑوں کی بناوٹ کو وراثت یا قدرتی مشابہت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ مگر ایک نئی بین الاقوامی سائنسی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ بچے کے چہرے کی ساخت میں ماں کی غذا کا اہم کردار ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، حمل کے دوران ماں جو غذا کھاتی ہے، خاص طور پر پروٹین سے بھرپور غذا، وہ بچے کے چہرے کی بناوٹ کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ رحمِ مادر میں موجود کچھ مخصوص جینز — جنہیں mTORC1 pathway کہا جاتا ہے — ماں کی خوراک سے متحرک ہو کر بچے کے چہرے کی ابتدائی ساخت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بات واضح ہوئی ہے کہ پروٹین سے بھرپور خوراک کھانے والی ماؤں کے بچوں کے چہرے نسبتاً بھرے ہوئے، چوڑے جبڑوں اور نمایاں ناک کی ساخت کے حامل ہوتے ہیں۔ جبکہ کم پروٹین والی غذا لینے والی ماؤں کے بچوں کے چہرے عموماً نازک اور پتلے دیکھے گئے۔
یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ماں کی خوراک صرف بچے کی مجموعی صحت کے لیے نہیں بلکہ اُس کی جسمانی صورت گری کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔
پروٹین حاصل کرنے کے آسان ذرائع:
– دودھ، دہی
– انڈے
– دالیں، چنے
– گوشت، مچھلی
– پنیر، بیسن
– سویابین، مونگ پھلی
– بادام، اخروٹ، تِل، کدو کے بیج
سبزی خور خواتین بھی پودوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کے ذرائع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، اگر وہ اپنی غذا کو درست انداز سے ترتیب دیں۔
ماں کا کھانا اُس کی آنے والی نسل کا بنیادی تعین کرتا ہے۔ حاملہ خواتین کو اپنی خوراک کے انتخاب میں سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ یہ صرف اُن کی صحت کا معاملہ نہیں بلکہ آنے والے کل کے چہروں کی مسکراہٹ کا سوال ہے۔
اس مضمون کو اُن تمام خواتین تک ضرور پہنچائیں جو ماں بننے والی ہیں۔ یہ شعور کسی ننھے چہرے کی مضبوط بنیاد رکھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آپ کے بچوں کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔
ماں کی غذا اور بچے کی شکل