✍️محمد قاسم راجہ
اللّٰه رب العزت نے اس کائنات کو اپنے امر سے پیدا فرمایا؛ اور پھر اس کے وجود کو کلمہ طیبہ کی روح عنایت فرمائ: ایک انسانی وجود روح کے بغیر میت، لاش،جنازہ کہلاتا ہے؛ دنیاۓ فانی کی رونق شخص روح کی پرواز سے یک دم اپنی تمام خوبیوں، شہرت، نام ، خطابات، القابات،اور اعزازات سے کنارہ کر کےایک خاموش،بے بس اور لاچار پُتلہ بن کے رہ جاتا ہے۔
قارئین محترم! رب العزت نے اس وسیع کائنات کو الہامی روح (کلمہ طیبہ) عطا فرما کر روز اَبد تک اعزاز بخشا، تا کہ تمام انسان ہر شعبہ ہاۓ زندگی میں الہامی روح کو تھامے ہوۓ اپنی حقیقی منزل کی جانب با آسانی پہنچ سکیں۔ ربِ رحیم نے حضرتِ انسان کو مکمل دستور حیات عطا فرمایا، بھلا خالق سے بہتر اپنی مخلوق کے بارے میں کون جان سکتا ہے:
رب العالمین کی محبت کی انتہا ہوئ کہ بنی نوعِ انسان کو سزا کے باوجو بے یارومددگار نہیں چھوڑا بلکہ کلمہِ حق کی صورت میں ایک مکمل طرزِ معاشرت، طرزِ سیاست، طرزِ حکومت اور تمام نجی معاملات میں رہنماء اُصول اور پھر انبیاء علیہ السلام مبعوث فرما کر ہر شعبہ ہاۓ زندگی کے لیے عملی نمونہ عطا فرمایا:
قارئین! آج ایک سچ آپ کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں جو کہ انتہائ عام فہم اور آسان ہے؛ جس سے دور رکھنے کے لیے آپ کو اور مجھے مغربی دیوتاؤں کے تراشیدہ معیارات میں الجھا کر رکھ دیا گیا، اور پھر ایسے بد بودار، بد شکل، بد دیانت، بد عہداور بد کردار بُت کو شرافت کا لباس پہنا کر ہمارے سامنے پیش کیا گیا جس کی اساس ہی مکرو فریب ، جھوٹ و دجل اور تمام مُسلم اُمت کو الہامی نظام ( نظام خلافت) سے دور رکھنا ہے:
جی ہاں ! میری مراد جمہوریت ہے، اور پھر اسے اسلامی جمہوریت کا لیبل لگا کر مسلم اُمت کے وقار ، تشخص اور وجود کو اور ٹھیس پہنچائ گئ۔
قارئین! انسانی حقوق کی پامالی، عدل و انصاف کی عدم فراہمی، فرقہ واریت، خانہ جنگی,کرپشن، میرٹ کی پامالی، جنسی تشدد، جنسی زیادتی، فرسودہ تعلیمی نظام، بوسیدہ عدالتی نظام، ڈالر پرست جج صاحبان اور دیگر تمام بیماریاں صرف اور صرف اس جمہوری نظام کی ہی منحوسیت ہیں۔
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ ادوار کی روانی میں سر فہرست مسلم ادوار ہیں، جس میں نہ صرف انسانی حقوق کا تحفظ بلکہ علم و فن ، سائنسی ایجادات، عدل و انصاف، اعلیٰ عدالتی نظام، داخلی اور خارجی معاملات اور بالخصوص مسلم اُمت کو تحفظ فراہم تھا؛
یہ جمہوریت ہی کی منحوسیت یے کہ مسلم امت کو مُلک و قوم کے جھانسے میں ڈال کر، مسلم وحدت کے تصور کو مِٹا کر فلسطین، شام، چیچنیا، ایغوز، روہنگیا، انڈیا اور بالخصوص جموں کشمیر میں مسلم امت پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں؛
قارئین! یہ جمہوریت ہی کی منحوسیت ہے کہ ہماری شہ رگ کٹ رہی ہے پھر بھی ہماری زبانیں گنگ ہیں، ہمارے جذبے دو، اڑھائ منٹ کی خاموشی سے آگے نہیں بڑھتے، ہماری غیرت ماؤوں بہنوں کی لُٹتی ہوئ عصمت دیکھ کر بھی نہیں جاگتی، ہمارے حکمران شہ رگ بچانے کے لیے اقوام متحدہ کےآگے کشکول لیے کھڑے ہیں، ہماری عافیہ ڈالروں کے عوض فروخت کر دی گئ، لال مسجد کی پاک دامن بہنوں کو ڈالروں کے عوض خون میں نہلایا گیا، ڈالروں کے عوض شمالی علاقہ جات میں اپنے ہی بھائیوں پر آپریشن کیے گئے، معصوم بچیوں پر جنسی تشدد کرنے کے بعد سزا کے بجاۓ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اسلامی اقدار کو درباری ملاؤوں ، پالشیوں ، امریکن نواز فوجی اداروں، اور لبرل ازم کے دلدادہ سیاستدانوں کے ذریعے بے انتہا نقصان پہنچایا گیا:
قارئین محترم! ہماری وحدت، بقا ، انسانی حقوق کے تحفظ، مسلم اُمت کے تحفظ، عدل و انصاف کی ضامن، کرپشن سے پاک معاشرےکی تشکیل اور اسلامی اقدار کا فروغ صرف اور صرف قرآنی نظام، نظام خلافت ہی سے ممکن ہے۔
میرے عزیزم قارئین! ہمیں صبح و شام اس مغربی فرسودہ، اپاہج نظام کے راگ الپنے کے بجاۓ اس نظام کی طرف آنا ہو گا جو رب العالمین نے ہمیں عطا فرمایا؛ اسی میں ہماری دُنیوی و اُخروی کامیابی ہے۔
واللّٰه اعلم بالصواب