*میں اور میرے پیارے*
✒ ام محمد عبداللہ
افففف!!! عشاء کی نماز رہتی ہے،،، ابھی ننھی عبیرہ کو سلاتے سلاتے میری اپنی آنکھیں بھی نیند سے بند ہونے لگی تھیں۔
عبیرہ جانی سو جاؤ پلیز۔ میں اسے پیار سے تپھکتے ہوئے اب اس کی منتیں کرنے لگی تھی۔ نیند سے بند ہوتی پلکوں سے اس نے مجھے جھانکا اور ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ پرسکون نیند سو گئی۔
لیکن اب تک میری ہمت جواب دے چکی تھی۔
عشاء کی نماز رات میں کسی وقت اٹھ کر پڑھ لوں گی۔
میں نے کمبل ذرا اور اوپر کھینچا۔
اور بس گہری نیند میں جانے ہی والی تھی کہ عبیرہ کی کھانسی نے یکدم چوکنا کر دیا۔ میں نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ کیوں کھانسی ہے یہ؟ اللہ جی کھانسی تو نہ لگے اسے۔ من موہنی گڑیا ایک بار پھر نیند میں مسکرانے لگی تھی۔
سلطنت عثمانیہ کے آخری ایام
ذرا آنکھیں بند کیں تو دن بھر بچوں کے ساتھ کیے گئے مکالمے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگے۔
”امی امی! مجھے قاری صاحب نے قرات کے مقابلےکے لیے منتخب کیا ہے۔
بہت سے سکولوں سے بچے آئیں گے، قاری صاحب کہتے ہیں تم سب سے اچھی تلاوت کرنا۔
سب سے اچھی میں کیسے کر پاؤں گا؟“ میرا پیارا سنان کیسا فکرمند تھا۔
” تم دل لگا کر محنت کرو اور میں دل سے دعاٸیں کروں گی۔“ صبح کتنے یقین سے میں نے اس کی ہمت بندھائی تھی۔
”امی! قاری صاحب کہتے ہیں تم جلدی جلدی بہت اچھا قرآن پاک یاد کر لیتے ہو لیکن یاد کر لینا کمال نہیں مستقل یاد رکھنا کمال ہے۔“
حسان کی اپنی علیحدہ فکر تھی۔
”روز سبقی، منزل دہراؤ گے تو مستقل یاد رکھ پاؤ گے، ان شاءاللہ۔
میں ہر وقت دعا بھی تو کرتی رہتی ہوں تمہارے لیے۔“
”امی امی! اب نیا بہت مشکل پیٹرن آیا ہے امتحانات کا۔ میرا کیا ہو گا۔“ سفیان کو اپنی پریشانی لاحق تھی۔
”بھئی ہونا کیا ہے، محنت کرو پڑھو، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ پاک تمہیں کامیاب فرمائیں گے۔“
”یا اللہ! میرے پیارے پیارے بچوں کو کامیاب کرنا۔“ بےاختیار دعا لبوں پر آ تو گئی مگر ساتھ ہی شرمندگی بھی ہوئی اللہ پاک نے نماز کے لیے بلایا وہ تو کہا مانا نہیں اور اپنی فرمائشی لسٹ لے کر کرنے لگی یا اللہ یا اللہ!
”بس ایک آدھا گھنٹہ نیند لے لوں پھر اٹھتی ہوں، حاجت کے نفل بھی پڑھوں گی بچوں کے لیے ان شاء اللہ“
میں نے خود کو یقین دلایا حالانکہ جانتی تھی جتنی میں تھکی ہوئی تھی صبح بھی مشکل سے اٹھوں گی۔
ذرا سی آنکھ لگی تو ہڑبڑا کر اٹھ گئی،،، لگا جیسے سامنے رکھی جائے نماز پر امی جان بیٹھی ہیں اور رو رو کر میری دنیا و آخرت کی خوشیاں اور کامیابیاں اللہ تعالی سے مانگ رہی ہیں۔
اففف کیسی بیٹی ہو تم افشیں! جو ماں ساری ساری رات تمہاری خوشیوں کے لیے اللہ رب العزت کے سامنے گڑگڑاتی رہی اور جس کی دعاؤں کی برکت سے آج تمہارا دامن خوشیوں سے لبریز ہے اس ماں کے لیے دعائے مغفرت کیے بغیر سو رہی ہو۔
جب اللہ کے آگے کھڑی ہی نہیں ہوئیں، نماز ہی نہیں پڑھی تو بچوں کے لیے کیا مانگو گی؟
ماں کے لیے کیا مانگو گی؟
میں نے ایک ٹھنڈی گہری سانس بھری،،،،
اے میرے پیارو!
اللہ پاک تمہیں سدا سلامت رکھے ۔ آمین
مجھے تم سب کے لیے اللہ پاک سے بہت کچھ مانگنا ہے۔
میں تم سب کی محبت میں اللہ پاک کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔
میں تم سب کی چاہ میں نماز نہیں چھوڑ سکتی۔
میں اٹھ گئی تھی۔
وضو اور نماز سب آسان ہو گیا تھا۔
میں اپنے پیاروں کے لیے اللہ سبحان و تعالی کے سامنے دل دامن پھیلائے بیٹھی تھی۔
کیونکہ میں یہ بھی تو جانتی تھی کہ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے
’’وکان ابوھما صالحا‘‘ (ان کے والد نیک انسان تھے)۔
مجھے معلوم ہے کہ اولاد کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے بینک بیلنس سے زیادہ ضروری انسان کا اپنا نیک عمل ہے۔
اور یہ
حدیث بھی تو میں نے پڑھ رکھی ہے:
“حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،
” جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے،
(١) صدقہ جاریہ
(٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے
(٣) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔”
(صحیح مسلم)
اور اب میں اپنی مرحومہ ماں کے لیے صرف دعائے مغفرت ہی کا تحفہ تو بھیج سکتی ہوں۔
======================