394

ناروے میں قرآن مجید کی بے حرمتی کا شرمناک واقعہ

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔
ناروے کے شہر اوسلو میں حال ہی میں” قرآن مجید “فرقان حمید کے صفحات پھاڑنے کا واقعہ منظرعام پہ آیا ہے۔جو انتہائی افسوسناک حرکت ہے۔
۔۔۔۔
واقعہ کچھ اسطرح سے پیش آیا ہے کہ “سٹاپ اسلامائزیشن”ریلی نکالی جا رپی تھی۔یہ ایک پر امن ریلی تھی مگر صورت حال تب خراب ہوئی جب نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے گۓ اور بعد ازاں ایک خاتون نے قرآن کے اوراق پھاڑ کے نزرآتش کیے۔جس کے بعد کافی حالات خراب ہوگۓ ۔پولیس کی بھاری نفری طلب کرنا پڑی۔مظاہرین میں سے تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس طرح کے حالات کیوں پیدا کیے جا رہے ہیں؟جب تمام انبیاء واجب احترام ہیں۔تمام مذاہب اس بات کو مانتے ہیں تو پھر کوئی بھی مذہب ہو اس کی دل آزاری جرم ہی نہیں گناہ بھی ہے۔
کبھی قرآن مجید کی بے حرمتی کبھی نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخیاں تو کبھی کارٹون بنا کر مسلمانوں کت جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس وقت اتنی کثیر تعداد میں ہیں مگر اپنے نبی ﷺ اور اپنی الہامی کتاب کے خلاف اٹھنے والوں ہاتھوں کو روک نہیں پا رہے۔حکومتیں تک اس پہ چپ سادھے بیٹھی ہیں۔کیا یہی اسلام ہے۔کیا ان کا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ نہیں روک سکتا۔علامہ اقبال نے کہا تھا کہ “عصا نا ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد”یعنی طاقت نا ہوتو کلیمی بھی کچھ نہیں کر سکتی۔مسلمانوں کی ہوا اکھڑ چکی ہے۔انکے پاس نا ایمان کی طاقت ہے اور نا کردار کی۔اور کافر جانتے ہیں کہ یہ نااہل ہو چکے ہیں۔جبھی انکی طرف سے آۓ روز اس طراح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قرب قیامت کے نزدیک مسلمانوں میں وہن پھیل جاۓ گا۔پوچھا گیا وہن کیا ؟فرمایا “زندگی سے محبت اور موت سے نفرت”جب یہ وقت اۓ گا تو مسلمانوں کی ہوا اکھڑ جاۓ گی اور وہ۔کثیر تعداد میں ہوں گے مگر انکی حثیت تنکوں کی سی ہوگی جو ادھر ادھر اڑتے پھرتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی یہی کیفیت ہے۔دنیا کا دوسرا بڑا مذہب اسلام ہے۔56 سے زائد اسلامی مملاک ہونے کے باوجود انکی مجموعی حثیت صفر ہو چکی ہے۔سب کو اپنے گھروں کی پڑی ہے۔اللی کی حرمتیں پامال کی جا رہیں ہیں مگر ہمارے کان پہ جو تک نہیں رینگتیں۔اس وقت بڑا سنگین وقت ہے۔دعا ہے کہ اللہ مسلمانوں کو پھر سے وہی عروج دے۔آمین
۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں