488

نۓ سال میں اچھی عادات کی پنیری لگائیں

تحریر شئیر کریں

نۓ سال میں اچھی عادات کی پنیری لگائیں۔کیوں اور کیسے؟
عادات کیا ہیں؟یہ جاننا بہت ضروری ہے۔انسان کچھ بھی نہیں سواۓ عادات کے مجموعے کے۔انسانی شخصیت عادات سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔لہذا عادات بہت اہم موضوع ہے کیونکہ اس پر پوری شخصیت انحصار کرتی ہے۔بقول ارسطو کے ہم وہ ہیں جو ہم کرتے ہیں۔
کسی بھی عادت کو کیوں اپنایا جاۓ؟جب آپ “کیوں” کی تلاش شروع کرتے ہیں تو” کیسے کرنا ہے “کی تلاش بھی آسانی سے کر لیتے هیں۔
اچھی عادات کا هونا کیوں ضروری ہے؟
زندگی بہت خوبصورت ہوسکتی ہے اگر اچھی عادات کی پنیری آپ کے بچپن میں ہی لگادی گئ ہے۔اور زندگی بہت بدصورت ہے اگر اچھی عادات کی بجاۓ بری عادات آپ کے اندر رچ بس گئیں ہیں۔یہ ایسی چیز ہیں جو نسل اور خون کا پتہ دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے اندر 65فیصد عادات وراثت سے منتقل ہوتیں ہیں۔اس لیے والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات پر خصوصی محنت کریں۔ہر چھوٹی سے چھوٹی عادت کے بارے میں رہنمائی حاصل کریں۔بچوں کی عادات پہ کڑی نظر رکھیں۔کوئی چیز طبیعت میں زیادہ ہے یا کم تو فورا سے نوٹس لیں اور ماہرین سے رجوع کریں۔جتنی جلدی اس حوالے سے پیش قدمی ہوگی اتنا ہی بچوں کے لیےموثر ہوگا۔واصف علی واصف کہتے ہیں کہ ذہن پختہ ہو تے جائیں تو ان میں اصلاح کا امکان کم ہوتا جاتا ہے۔

اب یہ سوال آتا ہے کہ اچھی عادات کیسے اپنائی جائیں؟

اس حوالے سے کچھ پوائنٹس ہیں جنہیں مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔یہ وہ پوائنٹس ہیں جو بلواسطہ یا بلاواسطہ عادات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔وہ درج ذیل ہیں۔

قوت ارادی اور عادت

قوت ارادی ایسی قوت ہے جو ہماری عادات بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔اگر آپ اچھی قوت ارادی کے مالک ہیں اور اس قوت کو سمجھ داری سے استعمال کرنا جانتے بھی ہیں تو نئ عادت اختیار کرنا آپ کے لیے بڑی بات نہیں۔مگر قوت ارادی بہت محدود چیز ہے۔یہ ہر وقت اور ہر عمر میں دستیاب نہیں ہوتی۔اسی طرح کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جن کی بدولت آپ قوت ارادی وافر میں دستیاب ہوتی ہے۔اسی طرح کچھ لمحات میں یہ بہت کمزور ہو جاتی ہے۔جوانی اور بڑھاپے کا بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔جوانوں میں تبدیل ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت بڑھاپے کے۔لہذا عادات کی تشکیل اور نۓ سرے سے عادات بنا نا اور پرانی ترک کرنے کے سلسلے میں قوت ارادی کو مضبوط بنانا اسے سے کام لینا بہت ضروری ہے۔

بنیادی انسانی ضروریات کو سمجھیں۔

یہ بہت اہم موضوع ہے بنیادی انسانی ضروریات اور حوائج کو سمجھنا۔انسان کا یہ المیہ ہے کہ اسے جو اللہ نے جسم نام کی مشین دی ہے وہ اس کے بارے میں بہت کم آگاہی رکھتا ہے۔مثلا ایک عادت ہے آج کل بڑی عام جس کا نام موبائل ہے اب یہ عادت ڈال تو لی ہے مگر بہت سی انسانی ضروریات اس کی نظر ہورہیں ہیں۔مثلا رات کی نیند نہیں مل پاتی جس کی وجہ سے رویوں اور معیاری کام اور صحت کے حوالے سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔تعلقات ٹھیک ہونے کی بجاۓ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔اگر انسانوں کی اس جماعت نے جو موبائل ایڈکشن میں مبتلا ہے۔اپنی جسمانی ضروریات اور ان کے تقاضوں کو سمجھا ہوتا تو یہ مسائل پیدا نا ہوتے۔جو ہو رہے ہیں تو یہ بڑا ہی اہم موضوع اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو عادات انسانی ضروریات سے متصادم ہوگیں وہ نہیں چل سکے گی۔ اس لیے عادات کے حوالے سے یہ موضوع بہت کارآمد ہوسکتا ہے اگر اس سے مدد لی جاۓ تو۔

اپنی سب سے بڑی خوبی کا ادراک ہونا

ہر انسان عادات کا مجموعہ تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر کوئی ایک ایسی عادت بھی ہوتی ہے جو اس کی سپر پاور ہوتی ہے۔عموما لوگ اور انسان خود بھی اس کا ادراک رکھتا ہے۔یہی وہ خوبی ہوتی ہے جس نے انسان کو عروج بخشنا ہوتا ہے۔اچھی عادات کا جاننا اور سب سے اچھی عادت کا جاننا ازحد ضروری ہے۔اس کی مدد سے مزید اچھی عادات تخلیق کی جا سکتیں ہیں۔اسی طرح آپ کو اپنی سب سے بری عادت کا بھی پتہ ہونا چاہیے جس کی وجہ سے آپ اب تک پیچھے ہیں۔جس کے ہونے سے آپ ترقی کرنے اور آگے بڑھنے سے قاصر ہیں

نئ عادت کو پہلے سے سیکھی ہوئی عادت کے ساتھ منسلک کرنا

یہ بہت راز کی بات ہے۔اس پہ ایک کتاب بھی آچکی ہے atomic habits کے نام سے۔اس کا مصنف لکھتا ہے کہ جب آپ کو نئ عادت اختیار کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہوتی ہے۔تو آپ اس نئ عادت کو پہلے سے پختہ عادت کے ساتھ جوڑ دیں۔مثلا آپ کو عادت ڈالنی ہے فلاسنگ کی مگر یاد نہیں رہتا ۔اس کا طریقہ یہ کہ فلاس کرنے والا دھاگا برش کے ساتھ رکھ دیں۔جب بھی برش کریں گے یاد آ جاۓ گا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ روزانہ تین سو بار استغفار پڑھنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر پاتے۔تو جب واک کریں تو ہاتھ میں کاونٹر پکڑ لیں اور ساتھ ساتھ استغفار پڑھتے جائیں۔اس طریقے سے آپ خود کونئ عادات ڈال سکتے ہیں جو بہت آسانی سے آپ کے عمل کا حصہ بنتی جائیں گیں۔

کچھ عادات کو ٹریگر بنانا

ہماری کچھ عادات ایسی ہوتیں ہیں جو مہیمز کا کام کرتیں ہیں۔جیسا کہ آپ کو ایکسرسائز کرنا مشکل لگتا ہے تو آپ روزانہ خود کو باونڈ کریں کہ مجھے دس سیکنڈ کے لیے ٹریک پہ جانا ہے۔جب آپ ٹریک پہ کھڑے ہو جائیں گے تو پھر دس سیکنڈ کے بعد مزید وقت بھی بہت آسانی سے دے سکتے ہیں۔

شروع عادات میں چھوٹے اور آسان اہداف مگر مسلسل کرنا

یہ بھی پڑھیے

عادات کیسے بنائیں جائیں؟

آخری بات جو بھی کرنا چاہیں اس کا عملی ثبوت دیں۔خالی باتیں نہیں۔

کسی بھی عادت کو شروع میں آسان اور چھوٹے چھوٹے اہداف میں باندھیں ا

ور روزانہ مستقل مزاجی سے کرتے جائیں۔اور آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں۔

نۓ سال میں اچھی عادات کی پنیری لگائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں