ویلنٹائن ڈے کی حقیقت
ہر سال 14 فروری کے دن یہ تہوار منایا جاتا ہے. اس دن نوجوان نسل” محبت کے دن ” کے نام سے یہ دن مناتے ہیں ۔ پوری دنیا میں اس دن کو ” یوم محبت ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے خالصتا عیسائی اور بت پرستوں کا عقیدہ ہے۔ بلکہ یہ تہوار ایک نصرانی شخصیت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
یہ تو اللہ رب العالمین کے دشمنوں کا خاص تہوار ہے ۔ جس کی تردید اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی” من تشبہ بقوم فھم منھم “جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے ۔ “
( رواں ابوداؤد اور کتاب الباس 3512 )
یعنی مسلمانوں کو سختی سے اس قسم کے تہوار سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت کیا ہے۔۔۔؟
کلیسائی روم میں ایک غیر مذہبی شخص جس کا نام” ویلنٹائن”تھا۔ وہ وہاں کا پادری تھا، وہ ایک خوبصورت راہبہ پر فریفتہ وار دیوانہ ہو گیا تھا۔ پر عیسائی تعلیمات کے مطابق پادریوں اور راہبات کے لئے تادم مرگ شادی حرام تھی۔ اسلئے ویلنٹائن پادری کے لئے اس راہبہ سے تعلقات قائم کرنا ناممکن تھا۔
پھر پادری نے اپنی محبوبہ کو بہلا پھسلا کر کہا کہ”میں نے ایک خواب دیکھا ہےکہ “کوئی بھی شخص اگر اپنی محبوبہ سے 14 فروری کے دن تعلقات قائم کرےگا تو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس طرح اس نے 14 فروری کے دن اظہار محبت و عقیدت اور جسمانی تعلقات قائم کئے۔ پھر پادری اور راہبہ کی اس مقررہ تاریخ 14 فروری کی یاد میں باقاعدہ ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا ۔
یہ تہوار مغربی ممالک میں باقاعدہ بڑے گرم جوشی سے منایا جاتا ہے۔
آج ہمارے مسلمان معاشرے میں بھی اس کو منانا اور اس دن کا اہتمام کرنا بڑے آب و تاب کے ساتھ ہونے لگا ہے۔ اس تہوار نہ تو ہندو مذہب میں کوئی تاریخ ہے اور نا ہی اسلامی تعلیمات اور اس کے اصول و ضوابط کے مطابق ہے۔ یہ ناسور برائی جو مسلمان معاشرے کو بھی تباہی کے لپٹ میں لے چکی ہے ۔ افسوس ! خدارا !
یہ خالصتان عسائی تہوار ہے جس میں بےحیائی اور فحاشی کی ہر حد پار کر دی جاتی ہے۔ جبکہ اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے جو حیا کو فروغ دینے والا ہے۔ جس کی فطرت میں حیا اور پاک دامنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ دین اسلام ہرگز اس کی اجازت نہیں دے سکتا ! آپ صہ نے فرمایا : بے شک ہر دین کی ایک خاص خصلت ہوتی ہے۔ اسلام کی وہ خاص خصلت حیا ہے۔
اسلام تہذیب ، تمدن و ثقافت میں خوشیاں منانا بھی عبادت ہے۔
اسلام کے بنیادی تعلیمات یہ ہیں کہ خوشیوں کا اہتمام کرنا ، دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہو جانا ، ہمدردی ، محبت و عقیدت رکھنا اور خد بھی خوش رہنا ہے۔ اس محبت و عقیدت کو پروان چڑھا نے کیلئے ایک دن مقرر کر لینا سراسر گمراہی و بدعت ہے۔
ویلنٹائن جیسے شیطانی تہوار جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔ بدعات و خرافات کی شکلیں ہیں۔ جس کی مخالفت آپ صل اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے کر دی تھی! آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ” جو دین میں نئی نئی ایجادات کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔” اسلئے ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ویلنٹائن جیسے ہر وہ شیطانی تہزیب و تہوار سے اپنے آپ کو دور رکھے ۔اللہ تعالٰی ہماری نوجوان نسلوں کو اپنے حفظ وامان رکھے آمین
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت