ویلنٹائن کیوں مناتے ہیں؟
تحریر: آمنہ راجپوت
ویلنٹائن ڈے کو آج کل لوگ پوری دنیا میں محبت پیار کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اور اس کے لئے مختلف قسم کی محفلیں اور خصوصی اہتمام کیے جاتے ہیں۔ مغرب میں سب سے پہلے اس کا آغاز ہوا۔ اب دیکھتے ہی دیکھتے کئی اسلامی ممالک میں اس کی جڑہں کافی مضبوط ہو چکی ہیں۔ جو کہ ایک افسوس ناک بات ہے، دراصل
Valentineرومیوں کا تہوار ہے۔ قوم جب اپنا اصلی مقصد بھول جائیں تو ان کی ذہنی غلامی کہلاتی ہے۔ مغرب سے آنے والے نئے رسم و رواج کو اپنانا آج کل کے دور کی ماڈرن ازم کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ قوموں کی غلامی میں سب سے خطرناک ذہنی غلامی ہے اس کے متعلق علامہ اقبال نے فرمایا ہے،
تھا جو نا خوب بےبتردیج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔
آج کل کے مسلمانوں نے غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا ہے، ان میں سب سے پہلے مغرب کی ذہنی غلامی ہے، جو مسلمانوں کے دل و دماغ پر مسلط ہو چکی ہے، مغرب کی رسومات اسلامی معاشرے کی اقدار اور تہذیب کو نقصان پہنچا رہی ہیں، مغرب میں اب انسان کو اپنے گھر کا سکون اور گھر کی اہمیت بالکل نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، اسی لیے ان کی خوشیاں صرف چند
رسومات اور تہوار ہنگاموں تک محدود رہ گئی ہیں، اس کے برعکس اگر مشرق میں نظر ڈالیں تو مشرق میں خاندانی نظام بہت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، ہمارے رسم و رواج ہمارے کہی تہوار ہماری عبادت کا حصہ بھی ہیں، جو کہ ہم بہت خوشیوں اور اہتمام سے مناتے ہیں، اسلامی تہذیب نے اس خوشیوں کے آغاز کو رب کی عبادت یا رب کی سجدہ شکر سے جوڑ دیا ہے، جشن آمد عید میلادنبئ عیدیں رمضان المبارک ,شب برات، یہ سب ہماری خوشیوں کا ذریعہ بھی ہیں اور عبادت بھی،
ہمارے اسلامی معاشرے میں آج کل کہی بت پرستانہ رسمیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں ایک 14 فروری کادن منانا ہے، مغرب میں اس کیلئے باقاعدہ پلان ترتیب دیے جاتے ہیں، اس کو محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جو لوگ اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتے اس دن اپنی محبوبہ سے اظہارکرتے ہیں، اس دن کو دیکھتے ہوئے اسلامی ممالک میں بھی نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، جس کو نوجوان نسل اپنی محبت کے دن کے طور پر منا رہی ہے، یہ مغرب کی تہذیب ہےاس نے مشرق کی تہذیب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،
ویلینٹائن کا رد عمل مگر اعتدال سے
اس دن کی تاریخ کو دیکھیں تو ایک یہودی کی یاد میں اس کو منایا جاتا ہے، اس وقت کی حکومت نے اس یہودی کو پھانسی کی سزا سنائی تھی، اس یہودی نے اپنے ناجائز تعلق کو جائز قرار دیا، جس کی وجہ سے حکومت نے 14 فروری کو اس کی سزا کو۔نافذ کیا گیا، اس کے بعد رومیوں نے اس دن کو منانا شروع کر دیا، ہمارے لئے افسوس کی بات ہے کہ ایک یہودی کی یاد میں مسلمان اس کو منانے کا اہتمام کرتے ہیں،
حدیث مبارکہ ہے،، کہ جو جس قوم کی مشابہت کرے گا قیامت والے دن وہ ان میں سے ہوگا،
ویلنٹائن کیوں مناتے ہیں؟