آج یوم دفاع ہے۔پاکستانی قوم اپنی بہترین آرمی کی سربراہی میں یہ دن منا رہی ہے۔الحمد للہ ہم دنیا کی بہترین افواج رکھتے ہیں۔جو دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے ساتھ ساتھ وقت پڑنے پر جانوں کا نزرانہ دینا بھی جانتی ہے۔اسی آرمی کے جوانوں کی بدولت ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔ہماری نسلیں محفوظ ہیں۔پاک آرمی ہمارا فخر ہی نہیں ہناری جان و عزت و آبرو کی محافظ ہے۔
جب بھی اس وطن عزیز پہ کوئی آفت آتی ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب پاک فوج پیش پیش ہوتی ہے۔پاک فوجہ کی تنظیم اور کام سے لگن اور جزبہ خدمت تینوں مل کر وطن عزیز کو اس آفت سے نکال باہر کرتے ہیں۔
پاک فوج کا جزبہ ایمانی کا دشمن بھی گواہ ہے جبھی تو دن رات پروپگینڈے میں مصروف رہتا ہے۔تاکہ پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکے۔مگر اس وطن کے باسی جانتے ہیں کہ یہ سب افواہیں ان کی پرواز کم کرنے کے لیے ہیں۔ہم یوم دفاع پاکستان کے موقع پر دشمن کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔ہمیں اپنے بہادرسپوتوں پہ یقین ہے۔یہ جن ماؤں کی گودوں میں کھیلے ہیں وہاں ہر پل اللہ ھو کی لوریاں سنتے یہ بڑے ہوۓ ہیں۔خالد بن ولید جن کے آئیڈل ہوں شہادت جن کی منزل ہو وہ غردار کیسے ہو سکتے ہیں۔
دنیا جانتی اے ایس آئی کے ذہین دماغوں نے ہمیشہ دشمن پہ کڑی نظر رکھی اور اپنی بہترین سٹریٹجک پاور سے ان کو وقت پہ جواب دے کر انکی سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔دشمن جانتا ہے کہ پاک فوج کت بہادر جوان جب تک فعال ہیں ہم انکی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتے جبھی اس نے پروپیگینڈہ وار کا سہارا لیا ہے۔جو پانی پہ لکھی تحریر کی طرح ہے۔کبھی ٹھر نہیں پاۓ گا۔بلکہ پاک آرمی سے محبت اور انکی قدر اور بڑھتی چلی جاۓ گی۔یقنا دفاع پاکستان کا کریڈٹ پاک آرمی کو جاتا ہے۔اس آرمی کی بدولت پاکستان کا دفاع دن بدن مضبوط ہو رہا ہے۔دشمن یاد رکھے یہ فوج پاکستان کی ہی نہیں پوری امت مسلمہ کی بگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وہ وقت دور نہیں جب یہ کام بھی وہ بخوبی کر رہی ہوگی۔انشاء اللہ
آج کے دن کا خصوصی پیغام یہ ہے کہ وطن عزیز کےدفاع کے لیے ہر دم تیار رہو۔چاہے یہ نظریاتی دفاع ہو یا سرحدوں کا۔پاک فوج اکیلے یہ کام نہیں کر سکتی عوام کو بھی اس میں بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔اللہ رب العزت کا فرمان کے “دشمن سے مقابلے کے لیے ہردم تیار رہو“اور یہ تیاری تبھی ہو سکتی ہے جب ہم سنجیدگی سے اس کی اہمیت کو سمجھیں گے۔وہ ملک دیکھ لیں جن کی افواج کو زیرزبر کر دیا گیا گیا۔عراق لبنان جیسے ممالک اسکی بہترین مثال ہیں۔دشمن کا پہلا ہدف آرمی اور عوام کے درمیان خلیج حائل کرنا ہوتی ہے۔اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاۓ تو باقی کاموں مین بھی ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک دن ان پر قابو پالیتا ہے اور بشارالاسد جیسوں کے ہاتھوں میں اس کی مہار پکڑا کر تماشہ دیکھتا ہے۔الحمد للہ ابھی ہمارے اندر ایسی منافرت جنم نہیں لی جو اس اعتبار کی دیورا کو ڈھا سکے۔یہ اعتبار یہ مان جب تک قائم ہے ہمارے وطن کا دفاع بھی قائم ہے۔