چائے کے فائدے اور نقصانات جانیے قلم کتاب پر
پاکستان میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب چائے ہے۔میڈیکل کی ریسرچ کے مطابق چائے کے فائدے بھی ہیں مگر نقصان بہت زیادہ ہیں۔چائے کے پینے کا طریقہ اور وقت کیا ہیں جب یہ فائدہ دیتی ہے اور کب نقصان اور سب سے بڑھ کر کتنی پینا مفید ہے اور کتنی پینا نشے کے ضمرے میں آتا ہے،آئیےسب سے پہلے فائدے دیکھتے ہیں۔
چائے کے فائدے
چائے میں بہت سے وٹامن اور منرلز ہوتے ہیں جیسا کہ وٹامن سی وٹامن بی ٹو اور وٹامن ای شامل ہے اور اگر منرلز کی بات کریں تو میگانیز ،زنک،فاسفورس،پوٹاشیم وغیرہ موجود ہیں اس کے علاوہ یہ اینٹی ایکسیڈنٹ بھی ہے۔جو ہمارے جسم میں موجود فری ریڈکل کو اپنے ساتھ جوڑ کر خارج کر دیتے ہیں۔فری ریڈیکلز ہمارے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے اور ہمارے خلیوں کی ابنارمل گروتھ کا باعث بنتے ہیں جسے کینسر کہا جاتا ہے۔اگر ان فری ریڈیکلز ک و جسم سے باہر نکالا جائے تو کینسر کے چانس بہت کم ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ چائے اینٹی انفلیمینٹری ہے یعنی ہمارے جسم کے اندر اگر کہیں سوزش ہے تو یہ اسے ختم کرتی ہے،یہ ہمیں سکون دیتی ہے،یہ ایسا سٹیمولیٹ ہے جو فورا چوکس اور تروتازہ رکھتی ہےیہ فوکس پاور کو بہتر بناتی اور کارکردگی کو بہتر بناتی ہےچائے کے اندر ایک کمپاونڈ ہوتا ہے جسے انتھیالین کہا جاتا ہے۔اینتھیالین ہمارے فوکس کو بہتر بناتا ہے خصوصا جب یہ کیفین کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
چائے کے نقصانات
چائے حاملہ خواتین کے حمل گرنے کا بہت بڑا سبب ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ دو کپ چائے پی سکتی ہیں۔
چائے کا دوسرا بڑا نقصان اگر اسے کھانے کے بعد پیا جائے اور ہمارے ہاں کھانا مکمل ہی نہیں ہوتا جب تک چائے نا پی جائے،تو اس ہوتا کیا ہے؟کھانے موجود غذائی اجزاء چائے پینے سے ضائع ہو جاتے ہیں۔یہ پروٹین کو جسم میں داخل ہونے اور ہضم ہونے سے روک دیتی ہے۔آئرن جو ہمارے جسم کی بنیادی ضرورت ہے اس کو جسم میں جذب ہونے سے روک دیتی ہے۔جب آئرن نہیں ہوگا تو اینیمیا ہوجائے گا،جیسا ہمارے ہاں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد اینیمک ہے۔جس سے تھکاوٹ چڑچراپن اور نڈھال نظر آنا بہت بڑی وجہ ہے۔ان سب مسائل کی ایک ہی وجہ کہ ہم کھانے کے فورا بعد چائے پیتے ہیں۔چائے کھانے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد پی سکتے ہیں۔
چائے کتنی پی جائے؟
چائے زیادہ سے زیادہ چار سے چھ کپ پی سکتے وہ بھی کپ مگے نہیں،اور اگر آپ کی عمر چالیس سال سے زائد ہے اور آپ چھ کپ سے زائد پیتے ہیں اور کئی سالوں سے مسلسل پی رہے ہیں۔تو آپ کو ہارٹ اٹیک اور بلڈ پریشر کا خطرہ دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔
چائے میں موجود کیفین جو کہ ایک نشہ ہے،یہ ہماری سکن میں جھریاں پڑنے کے عمل کو سست بھی کرتا ہےاینٹی ایجنگ بھی ہے لیکن اگر ہم چھ کپ سے زیادہ چائے پیتے ہیں تو اس کا اثر الٹ ہو جاتا ہے۔یہ جھریاں پڑنے کے عمل کو تیز کرکہ سکن کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔سکن لٹکنا شروع ہوجاتی ہے،بڑھاپا نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
چائے پینے والوں کی ایک بڑی تعداد کا یہ کہنا ہے کہ جیسے ہی ہم چائے پئیں نیند بھاگ جاتی ہے اور دوسری بڑی تعداد کا یہ کہنا ہے کہ چائے پئیں بغیر ان کو نیند نہیں آتی اب یہ کیا متھ ہے؟
دنیا بھر کے مشہور قہوے اور چاۓ
یہ اس لئے ہے کہ جو لوگ چھ کپ سے کم چائے پیتے ہیں ان کے لیے یہ سٹیمولٹ ہے اور جو زیادہ پیتے ہیں ان کے لئے نشہ بن چکا ہے اس لئے جب تک وہ ناپئیں نیند نہیں آتی،اس سے ایک اور مسئلہ بھی جنم لیتا ہے ایسے لوگ سو تو جاتے ہیں مگر گہری نیند نہیں آتی اور انگزائٹی کا سبب بنتے ہیں۔دماغ ساری رات جاگتا ہے،فریش نہیں ہوتے جب فریش نہیں ہوں گے تو پرفارمنس متاثر ہوتی ہے۔دوسرا یہ آنکھوں کی بینائی کو متاثر کرکے اندھے پن کا سبب بنتی ہے۔چائے جسم سے پانی کا خراج کرکے پانی کی کمی کا سبب بھی بنتی ہے۔اور قبض کا باعث بنتی ہے۔چائے کے فائدے اور نقصانات
چائے پینے کا طریقہ
چائے خالی پیٹ مت پئیں
کھانے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد پئیں
چار سے چھ کپ سے ہرگز زیادہ نا پئیں
چائے پینے سے پہلے ایک گلاس پانی پی لیں تو بہت اچھا
چائے کا متبادل گرین ٹی ہے جس کی عادت ڈالیں
دوائی چائے کے ساتھ ہرگز نا کھائیں،کیونکہ اس میں موجود کیفین دوائیوں سے ری ایکٹ کر سکتی ہیں۔
چائے کے فائدے اور نقصانات