459

ڈائری کا ایک ورق

تحریر شئیر کریں

ڈائری کا ایک ورق

صغری یامین

ہم وہ دیکھنا اورسوچنا نہیں چاہتےجو ہمیں ہمارا رب دکھانا چاہتا ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں جس سوچ و فکر کی دعوت دیتے ہیں ہم اس کے برعکس سوچتے ہیں اللہ تعالی کی نظر میں اس دنیا کی حیثیت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں مگر ہم اس کو دائمی سمجھتے ہوئے اس کی زیب و زینت میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جس مقصد کے تحت اللہ سبحانہ و تعالی نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے اس کو پسِ پشت ڈال کر اپنے نفس کے غلام بن جاتے ہیں ۔

ہماری سوچ کا محور صرف وہی چیزیں ہوتی ہیں جو ہماری نفس کو بھلی معلوم ہوں اور ہمیں لوگ بھی وہی اچھے لگ رہے ہوتے جو ہمارے دل کو بھائیں۔ مگر یہ ضروری تو نہیں کہ ہر چمکنے والی چیز سونا ہی ہو،یہ بھی تو ممکن ہے جن لوگوں کو ہم پسند کرتے ہیں اپنا جانتے ہیں وہ ہمارے حق میں بہتر ہی نہ ہوں اگر اللہ پاک ہماری بھلائی چاہتے ہوئے ان لوگوں کو ہم سے دور کر دیتے ہیں تو ہمیں واویلا نہیں مچانا چاہیے

لوگوں پر بے وفائی کے فتوے نہیں لگانے چاہیں، یہ سب کرنے کےبعد ہم یہ بات بڑے وسوخ سے کہہ رہے ہوتے کہ ہم نے فلاں فلاں کے ساتھ تعلق اللہ کی رضا کے لیے جوڑا تھا لہذا اس نے ہمارے ساتھ بے وفائی کردی ۔اگر واقعی یہ تعلق اللہ کی رضا کے لیے تھا تو دکھ کس بات کا اگر وہ دور ہوگیا پھر ہم کیوں دوسروں پر بغیر سوچے سمجھے بے وفائی کے الزامات لگا دیتے ہیں۔ پھر ہم اللہ کی ذات پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے جب اس کے لیے تعلق قائم کیا تو اس پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے وہ ذات کسی بھی صورت میں ناانصافی نہیں کرتی ۔ہمیں اس کی ذات پر راضی ہوتے ہوئے اس کے فیصلے کا انتظار کر نا چاہے جب ہم یہ سب کرلیں گے تو یقین کریں اللی پاک سکون قلب کی دولت سے نوازیں گے ۔

دوسری طرف جن لوگوں سے ہم بےوفائی کا گلہ کر رہے ہوتے ہیں ہوسکتا ہے انہوں نے بھی ہمارے ساتھ امیدیں وابسطہ کی ہوں ۔ ہوسکتاہے ان کے پیار کرنے کا اور توجہ دینے کا انداز ہم سے مختلف ہو۔اللہ پاک نے ہر انسان کو دوسرے انسان سے الگ سوچ وفکر سے اور الگ دماغ سے نوازا ہے، خرابی بھی اسی وقت ہوتی ہے جب ہم دوسروں کو اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں کیوں یہ سب ہم اللہ کی رضا کے لیے نہیں اپنے نفس کی رضا کے لیے کر رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات جو بظاہر نظر آرہا ہوتا ہے حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے مگر ہم بغیر سوچے سمجھے اپنے نفس کی چاہت کے مطابق فیصلہ کر لیتے ہیں ۔

اس لیے اللہ سبحان و تعالی نے کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے اس کی قائم کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے ،تاکہ ہر بات کی تہہ تک پہنچ کر ہم وہ فیصلہ لینے میں کامیاب ہو جائیں جس میں اللہ تعالی کی رضا شامل ہو ۔
اگر ہم ہر چیز میں مثبت پہلو تلاش کریں گے تو زندگی پرسکون ہو جائے گی اور جن چیزوں سے اللہ سبحانہ نے ہمیں نوازا ہے جہاں تک ممکن ہو سکے ان کی قدر کرنی چاہیے اگر ہم اللہ پاک کی دی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کرنا شروع کردیں گے تو وہ ہم سے انہیں چھین لیں گے ۔جتنا زیادہ شکر کریں گے اللہ پاک ان میں مزید اضافہ کریں گے جو ہمارے پاس نہیں ہے وہ ہمارے مقدر میں نہیں تھا اپنے وقت کی اپنی زندگی کی اپنے ارد گرد لوگوں کی جنہوں نے آپکے ساتھ امید وابسطہ ان کا خیال رکھیں مثبت سوچیں اور خوش رہیں ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں