کچن گارڈننگ ایک خوبصورت روایت ہے جو ہماری دادیاں اور نانیاں بڑے شوق سے نبھایا کرتیں تھیں۔ایک وقت تھا جب کھلے کھلے صحن ہوا کرتے تھے۔ایسے میں ان کھلی جگہوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا اور سبزیاں اور پھلوں والے درخت لگاۓ جاتے تھے۔پھر لوگوں نے ٹرینڈ بدلا تو ہر چیز بدل گئ۔بڑے بڑے صحن معدوم ہوتے گۓ۔اب اگر بڑے صحن ہیں بھی تو دیہی علاقوں میں، وہاں بھی شاذونادر۔۔۔صحن کچے تواب بالکل نہیں رہے۔پکے ہوگے۔درخت لگانے کی روایت میں بھی کافی کم ہوئی ہے۔جہاں تک پودوں کی بات ہے تو اس کا ہونا بھی نا ہونے کے برابر ہے۔ایسے میں کچن گارڈننگ جی روایت کہیں کھو سی گئ ہے۔اس ختم ہوتی روایت کو شہابزشریف دور میں دوبارہ سے شروع کرنے کا آغاز ہوا تھا۔سمینارز اور پروگرامز معقد ہوۓ ۔سوشل میڈیا پہ تشہیر می گئ۔سستے بیج فراہم کیے گۓ۔مگر خاطر خواہ فوائد نا مل سکے۔
دوسری طرف عالمی سطح پر گرینری کی اہمیت کافی بڑھ گئ ہے۔کچن میں وال ہینگنگ کے زریعے سبزیاں اگائی جا رہیں ہیں۔اس مقصد کے لیے بغیر مٹی کے ٹیکنالوجی بھی متعارف کروائی گئ ہے۔اس کی بہترین مثال جاپان ہے جہاں کچن گارڈن تقریبا ہر گھر میں موجود ہے۔اگر جگہ نہیں ہے تو لٹکانے والی سبزیاں لگائی گئیں ہیں اور تو اور کچن کی کھڑکی میں پوٹ رکھے ہوتے ہیں۔مچھلی تک گھروں میں پیدا کی جاتی ہے۔کیونکہ یہ وہ قوم ہے جو خالص اور آرگینک کی اہمیت سے آگاہ ہے۔دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی کچن گارڈننگ کو بطور ہابی اختیار کیا جاتا ہے۔
کچن گارڈننگ کے فوائد
ملاوٹ اور آلودگی سے پاک سبزیاں میسر آتیں ہیں۔جس سے بہت سے امراض سے چھٹکارہ ملتا ہے۔
سستی اور تازہ سبزیوں کی فراہمی بھی اس سے ممکن ہوتی ہے۔جس سے گلی سڑی اور تعفن زدہ سبزیوں سے نجات ملتی ہے۔تازہ اور فریش سبزیاں پکانے سے ایک فرحت بخش احساس بیدار ہوتا ہے اور اس کے صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کچن گارڈننگ ایک ایسی ہوبی ہے جس سے مثبت تبدیلیاں رونما ہوتیں ہیں۔نیچرل ماحول میں وقت گزارنے سےڈپریشن سے نجات ملتی ہے۔اور انسان خود کو فریش محسوس کرتا ہے۔
کچن گارڈننگ سے گھر کی رونق بڑھ جاتی ہے ۔جو آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ گھر کی زیبائش و آرائش بھی بھلی محسوس ہوتی ہے۔
پودے لگانے سے اکسیجن کی وافر مقدار ملتی ہے اور ماحول میں سے گرمی کم ہوتی ہے۔ٹمپریچر نارمل رکھنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ ہے ہی نہیں کہ پودے درخت اور سبزیون سے گھروں کو آراستہ کیا جاۓ۔اگر چھت ہی پر پودے رکھ لیے جائیں تو اس سے بھی ٹمپریچر نیچے اۓ گا۔
کچن گارڈننگ سے گروسری کا بل کم بنتا ہے۔جس سے اخراجات میں کمی آتی ہے۔گھر میں اگائی جانے والی سبزیاں زیادہ افادیت کی حامل ہوتیں ہیں۔بازاری سبزیاں کیمیکل لگا کر مصنوعی طور پر پکائی جاتیں ہیں جو مضر صحت ہوتیں ہیں۔اس کے علاوہ کیڑ مار ادویات کا استعمال اور بھی زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
کچن گارڈننگ بچوں کے لیے تفریح اور کھیل کا باعث بھی ہے۔اس سے بچوں کو صحت مند سرگرمی میسر آتی ہے اور وہ اس نیچرل ہابی کو خوب انجواۓ کرنے کے ساتھ ساتھ سیکھتے بھی ہیں۔
کچن گارڈننگ کے اصول
کچن گارڈننگ کے لیے سب سے پہلے جگہ کا انتخاب ہے اگر جگہ نہیں تو گملوں کا انتخاب کریں اور آج کل تو موٹی فیبرکس کے گملے بھی دستیاب ہیں جو سستے بھی ہیں اور کارآمد بھی۔جب یہ طے ہو جاۓ کہ سبزیاں کس جگہ اگانی ہیں تو سب سے پہلا کام زمین تیار کرنا ہے۔زرخیز مٹی اگر نہر گھر کے قریب ہیں۔تو وہاں سے بھی مٹی لائی جا سکتی۔کچھ دن اس مٹی کو نرم کیا جاۓ گوڈی وغیرہ کر کے ہو سکے تو خشک گوبر مکس کر کے بطور کھاد استعمال کیا جاۓ۔روزانہ پانی کا چھڑکا و کیا جاۓ اس کے بعد موسم کے حساب سے سبزیاں اگائی جائیں۔کونسی سبزی کب اگانی ہے اس کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اس پہ چھ ماہ کاکورس بھی کرواتی ہے۔نیز بازار سے کتابیں بھی مل جاتیں ہیں۔انٹرنیٹ پہ ایسے بلاگز اور فیس بک گروپس موجود ہیں جو مناسب راہنمائی بھی دیتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر
کچن گارڈننگ کے لیے کونسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ?وہ بھی موسم کی مناسبت سے یہ جاننا بہت اہم ہے۔
کچن گارڈننگ کا اہم آصول دھوپ ہوا اور روشنی کا میسر آنا ہے اگر تینوں میں سے ایک چیز بھی کم ہوتی ہے تو سبزیوں کی بڑھوتری میں کمی آۓ گی۔گملے رکھتے وقت کھلی ہوا دار جگہ کا انتخاب کریں پھر شدید موسم میں کہر اور ہو اسے بچاؤ بھی لازم ہے۔موسمی کیڑوں سے بچاو بھی کرنا ہے۔یہ سب احتیاطیں آپ کو کچن گارڈننگ شروع کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہیں۔