213

کیا آپ ایک مضبوط ماں ہیں؟

تحریر شئیر کریں

(تحریر: روبینہ شاہین

ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس میں قدرت نے شفقت، قربانی، اور تربیت کے بے شمار رنگ سمو دیے ہیں۔ مگر دورِ جدید کی ماں صرف محبت کرنے والی نہیں، بلکہ شعور رکھنے والی، تربیت پر توجہ دینے والی اور خود کی اصلاح کرنے والی ہستی بھی ہے۔ ماہر نفسیات آصف علی خان کے مطابق “مضبوط ماں” کی پانچ نمایاں نشانیاں ہیں جو ہر اُس عورت کو جانچنے میں مدد دیتی ہیں جو ماں ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے۔
لیکن یہ نشانیاں صرف مشورے نہیں بلکہ ریسرچ، نفسیاتی اصولوں اور سائنسی بنیادوں پر کھڑے اصول ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی اگلی نسل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

خود پر کنٹرول ہونا

آج کی ماں پر بے پناہ دباؤ ہوتا ہے گھر، کام، رشتہ دار، معاشرتی توقعات، مگر ایک مضبوط ماں وہ ہے جو ان تمام دباؤ کے باوجود خود پر قابو رکھے۔
امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی ایک رپورٹ کے مطابق بچوں پر چیخنا ان کے دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر ان کے اعتماد، رویوں اور سیکھنے کی صلاحیت کو۔
مضبوط ماں جانتی ہے کہ چیخنے سے بات نہیں بنتی، بلکہ رشتے ٹوٹتے ہیں۔ وہ غصے کو تھام کر تحمل سے بات کرتی ہے۔

اپنی غلطی تسلیم کرنا

یہ جملہ “میں غلط تھی، مجھے معاف کر دو” بچوں کی تربیت میں انقلاب لا سکتا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ والدین اگر اپنی غلطی مانیں تو بچے سچ بولنے، ہمدرد بننے اور ایمانداری سیکھنے لگتے ہیں۔
مضبوط ماں انا کی قید میں نہیں ہوتی۔ وہ جانتی ہے کہ بچے انسان ہیں، اور انسان سیکھتے ہیں ماں کی معافی ان کے لیے ایک سبق ہے۔

بچوں کو کاموں میں شامل کرنا

آج کی تیز رفتار زندگی میں والدین اکثر بچوں کو کاموں سے الگ رکھتے ہیں تاکہ وہ “صرف پڑھائی پر دھیان دیں”، مگر یہ سوچ بچوں کو عملی زندگی سے دور کرتی ہے۔
مونٹیسوری فلسفے کے مطابق بچے جب چھوٹے چھوٹے گھریلو کاموں میں شامل ہوتے ہیں تو ان میں خود اعتمادی، ذمہ داری اور تعاون کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں۔
مضبوط ماں اپنے بچوں کو روٹی گول کرنے، میز پر پلیٹ رکھنے، اور کپڑے تہہ کرنے جیسے کام سکھاتی ہے یہ کام صرف جسمانی نہیں بلکہ تربیتی ہوتے ہیں۔

حوصلہ افزائی کرنا

ہر بچہ کسی نہ کسی میدان میں منفرد ہوتا ہے، اور جب ماں اس کی کوشش کو سراہتی ہے تو وہ بچہ پرواز سیکھتا ہے۔
سائیکولوجیکل جرنل آف لرننگ اینڈ موٹیویشن کے مطابق مسلسل حوصلہ افزائی بچوں کی اندرونی خود اعتمادی کو پروان چڑھاتی ہے۔
مضبوط ماں “شاباش! تم نے بہت اچھی کوشش کی” جیسے جملوں سے بچوں کو آگے بڑھنے کی ہمت دیتی ہے۔

تنقید سے گریز

تنقید بچوں کی شخصیت کو مجروح کر سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ مستقل اور بے جا ہو۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بار بار تنقید سے بچوں میں “I’m not good enough” جیسا احساس جنم لیتا ہے جو ان کی پوری زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
مضبوط ماں اصلاح ضرور کرتی ہے، مگر تنقید سے نہیں بلکہ مثال، رہنمائی اور محبت سے۔

مضبوط ماں کوئی پرفیکٹ ماں نہیں ہوتی، بلکہ سیکھتی ہوئی، سمجھتی ہوئی اور بدلتی ہوئی ماں ہوتی ہے۔ جو غلطی کو بھی تربیت کا موقع سمجھتی ہے۔ وہ خود بھی بہتر انسان بننے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اس کی گود میں ایک بہتر نسل پروان چڑھ سکے۔

تو کیا آپ ایک مضبوط ماں ہیں؟
اگر آپ نے آج غصہ روکا، بچے سے معافی مانگی، اس کی مدد لی، شاباش دی اور تنقید سے بچیں تو یقین جانیے، آپ ماں نہیں، معلمہ وقت ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں