کیا شوگر کے مریض گڑ کھاسکتے ہیں؟
ذیابطیس کے شکار افراد کے لئے میٹھا زہر کی مانند ہے اور جتنا انہیں میٹھا سے دور رہنے کو کہا جاتا ہے اتنا وہ میٹھے کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں میٹھا کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔ اور یہ خواہش شدت اختیار کرجاتی ہے۔ ایسے افراد کے لئے چینی کو زہر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ چینی کے متبادل گڑ کو ایک اچھے آپشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مگر کیا واقعی گڑ صحت مند غذا ہے؟ اور کیا گڑ ذیابیطیس کے مریض کے لئے صحت بخش غذا اور متبادل ہے؟
گڑ فائدہ مند ہے؟
گڑ بھی مٹھاس کی ایک قسم ہے جسے گنے کے رس کو ابال کر اور اس سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی حالت ٹھوس ہوتی ہے اور یہ ٹھوس حالت میں ہونے کی وجہ سےچینی سے کم ریفائن ہوتا ہے۔ اس میں پوٹاشئیم ،آئرن اور بہت سے صحت مند اجزا شامل ہوتے ہیں۔
مگر ہر گز یہ اتنا صحت مند نہیں ہے کہ اسے ہائی بلڈ شوگر یعنی ذیابیطیس کے مریض استعمال کریں۔ اس کی بھورری رنگت دکھنے میں صحت مند ہوسکتی ہے مگر یہ چینی کے مقابلے میں ایک اچھا آپشن نہیں ہے۔
گڑ میں بھی شوگر موجود ہے
گڑ بھی دوسرے میٹھے اجزا کی طرح گڑ فائدہ مند ضرور ہے مگر ذیابیطیس کے مریض کے لئے یہ بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ چینی ذیابطیس کا جسم چینی اورگڑ میں فرق نہیں کر پاتا یہ بھی ذیابطیس کے مریض کے لئے زہر ہی ہے۔ کیونکہ گر میں 65 سے 85 تک شوگر موجود ہوتا ہے۔
گڑ کھانے سے گلکوز بھی اسی حساب سے جسم میں داخل ہوجاتا ہے جتنا چینی کے حساب سے اس لئے چینی ذیابطیس کے مریض کو منع ہے کچھ لوگ اس کے متبادل گڑ کو استعمال کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ گڑ نقصان نہیں دیتا جو کہ غلط ہے۔ گڑ بھی شوگر لیول میں اضافے کا با عث بنتا ہے۔