316

کیا ماں کی گود اب ماضی کا قصہ بن جائے گی؟

تحریر شئیر کریں

کیا ماں کی گود اب ماضی کا قصہ بن جائے گی؟

ذرا تصور کریں… ایک بچہ جو ماں کے پیٹ میں نہیں، بلکہ ایک شفاف کیپسول میں پروان چڑھ رہا ہو! نہ صبح کی متلی، نہ دردِ زہ، نہ زچگی کے خطرات—بس ایک مکمل کنٹرولڈ ماحول جہاں زندگی جنم لے رہی ہو۔

یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، بلکہ ایک حقیقت بنتی ہوئی تصویر ہے جس پر EctoLife نامی کمپنی کام کر رہی ہے۔ دنیا کا پہلا مکمل مصنوعی رحم، جہاں انسانی بچے کو ایک ایسی جگہ پر پرورش دی جا سکتی ہے جو قدرتی رحم کی تمام خصوصیات رکھتی ہے—لیکن انسان کے جسم سے باہر۔

یہ کیسے ممکن ہے؟

– مصنوعی رحم میں بچہ ایک خاص مائع میں تیرتا ہے، بالکل ویسا ہی جیسا ماں کے رحم میں ہوتا ہے۔
– ڈیجیٹل مانیٹرنگ: والدین موبائل ایپ کے ذریعے بچے کی حرکتیں، دل کی دھڑکن اور بڑھوتری لمحہ بہ لمحہ دیکھ سکتے ہیں۔
– جینیاتی ایڈیٹنگ: جلد، آنکھوں، بالوں کا رنگ حتیٰ کہ ذہانت کی سطح بھی مستقبل میں منتخب کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی ایک جھلک

– بانجھ جوڑوں اور خطرناک حمل کی شکار خواتین کے لیے امید کی نئی کرن۔
– ماں بننے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے بغیر درد کے سفر کی سہولت۔
– ایسے انسانی مراکز، جہاں مختلف “طبیعت” کے بچے—جنگجو، سائنسدان، یا فنکار—ڈیزائن کیے جا سکیں۔

یہ سب حیران کن لگتا ہے، لیکن یہ سب حقیقت کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

—

اسلامی نقطۂ نظر

اسلام زندگی کے ہر شعبے میں انسان کو توازن، فطرت اور مقصد کی یاد دلاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ”
(سورۃ آل عمران: 6)
وہی ہے جو تمھیں رحم مادر میں اپنی مرضی کے مطابق شکل دیتا ہے۔

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا آغاز، اس کی تشکیل اور ارتقاء اللہ کی مرضی سے ہے، نہ کہ صرف انسانی علم اور مشینری سے۔

اسلام سائنسی تحقیق کا مخالف نہیں، بلکہ علم کے حصول کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اصول بھی دیتا ہے کہ جو چیز انسانی فطرت، اخلاق اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرے، وہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

– جینیاتی چھیڑ چھاڑ سے ایک نئی نسل کا “ڈیزائن” کرنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن یہ اللہ کی تخلیق میں مداخلت کے مترادف بھی ہو سکتا ہے، جو قابلِ غور اور فکر ہے۔
– ماں کی محبت، قربانی اور روحانی اثرات کسی مشین سے منتقل نہیں ہو سکتے۔ بچہ صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ روحانی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر بھی پرورش پاتا ہے۔

—

### سوال یہ ہے…

کیا انسان اس سائنسی پیش رفت کے لیے ذہنی، اخلاقی اور روحانی طور پر تیار ہے؟
کیا ایک مشین قدرت کی محبت، قربانی اور احساس کو بدل سکتی ہے؟
کیا مذہب، تہذیب اور قانون ایسی پیدائش کو قبول کر پائیں گے؟

—

ماہرین کہتے ہیں کہ مصنوعی رحم ٹیکنالوجی آنے والے وقت کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس تبدیلی پر تنقید کے بجائے غور کریں—کیونکہ اگر ہم نے آنکھیں بند رکھیں، تو مستقبل ہمیں پیچھے چھوڑ جائے گا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا ایک کیپسول میں پرورش پانے والا بچہ بھی ماں کی ممتا محسوس کر سکتا ہے؟
اور کیا ہم ربِ کائنات کی تخلیق میں مداخلت کی اخلاقی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟

—کیا ماں کی گود اب ماضی کا قصہ بن جائے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں