595

گلوبل وارمنگ کا توڑ شجرکاری

تحریر شئیر کریں

گلوبل وارمنگ کا توڑ شجرکاری پہ معلوماتی آرٹیکل

موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی موسم اپنے پیراہن بدلنا شروع کر دیتا ہے۔پت جھڑ کی جگہ درخت اور پودے اپنی سرسبز کونپلیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔چاروں طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔رنگ برنگے پھول اپنی ڈھب دکھانے شروع کر دیتے ہیں۔شدید سردی کے بعد کا یہ موسم بڑا ہی خوبصورت ہوتا ہے۔جس میں نا زیادہ گرمی اور نا سردی۔۔۔اس لیے سب کا فیورٹ موسم ہوتا ہے۔

بہار کے آتے ہی شجرکاری مہم کا آغاز بھی زور پکڑ لیتا ہے اگرچہ اتنا نہیں جتنا کہ پاکستان میں شجرکاری کی ضرورت ہے۔
گلوبل وارمنگ کے حوالے سے 2020 میں پاکستان کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا تھا جو کہ خطرے سے کم نہیں ہے۔لاہور کراچی کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں کا مقام حاصل کر چکے ہے۔بڑھتی ہوئی فوگ سے سانس کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں سردی یہ سب گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں۔

پاکستان میں شجر کاری مہم کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے اج منصورہ میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا اور ہر فرد کو ایک ایک ہودا لگانے کی ہدایت کی تاکہ گلوبل وارمنگ کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
شجرکاری صدقہ جاریہ ہے۔سنت رسول ﷺ ہے۔آپ کے بیشتر فرمان سے شجرکاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ درخت اور پودے زمین کے لیے کتنے ضروری اور اہم ہیں۔زمین کا زیور کملا رہا ہے۔اس زمین کو آباد کر نا ہے تو درخت لگائیے اپنے لیے اپنی نسل کے لیےاس زمین کے لیے۔

شجرکاری ضرور کریں مگر ان پودوں درختوں کا بھی خاص خیال رکھیں جو آپ کی بے توجہی سے کملا کے رہ گۓ ہیں۔نۓ پودے ضرور لگائیں پر پرانے پودوں کی دیکھ بھال بھی کریں۔ان کو سوکھنے سے بچائیں۔آپ کی زرا سی توجہ سے یہ پھر سے لہلہانے لگیں گے۔گلوبل وارمنگ کا توڑ شجرکاری ہے صرف اور صرف شجرکاری۔پودے لگا کر ماحول کو تحفظ دیں۔چاہے چھت پہ گملوں کی صورت میں لگائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں