گڑ بنانے پر سے پابندی ختم لاہور ہائیکورٹ کا شاندار فیصلہ آ گیا
گڑ اپنے اندر بے پناہ فوائد رکھتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب سے گڑ کی جگہ چینی آئی ہے تب سے بلڈ پریشر اور شوگر کی بیماری نے اس قوم کوذہنی اور نفسیاتی طور پر بیمار کر دیا ہے۔چینی مضر صحت ہے اور سفید زہر ہے جو ہماری رگوں میں اک سازش کے تحت اتارا جا رہا ۔۔
لاہور ہائیکورٹ نے 1948 میں قائم کیا گیا ایک غلط قانون جس کے تحت گڑ کی فیکڑیاں لگانے پر پابندی عائد تھی اب ختم کر دی گئ ہے۔انگریز جانتا تھا کہ گڑ کھانے سے یہ قوم بیمار نہیں ہوگی لہذا اک سازش کے تحت پون صدی تک اس کو برقرار رکھا گیا۔اور چینی کا عادی بنایا گیا۔گڑ اگرچہ چھوٹے پیمانے پر بنتا رہا مگر شوگر مافیا اس دوران ہزاروں فیکڑیاں لگانے اور قدم جمانے میں کامیاب ہوگئیں۔
گڑ کی افادیت کے پیش نظر اب اس کی فیکڑیاں لگائی جائیں اور چینی کا۔ستعمال رفتہ رفتہ کم کیا جائے۔گڑ کے اندر کیلشیم فاسفورس اور آئرن پایا جاتا ہے اس لیے یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھتا تھکاوٹ سے بچاتا اور انیمیا سے محفوظ رکھتا ہے۔اس کے مسلسل استعمال سے رنگت سفید اور یادداشت تیز ہوتی ہے۔جہاں تک ذاِئقے کی بات ہے گڑ کی چائے پی کر دیکھیں چینی سے کئ گناہ بہتر ذائقہ ملے گا۔
گڑ بنانے پر سے پابندی ختم ہونے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس موقع سے مقامی کسان فائدہ اٹھائیں گڑ کی فیکڑیاں لگائیں،اس کے ریٹ کم کیا جائے۔انڈیا کی طرح معیاری گڑ اور شکر بنا کر زرمبادلہ کمایا جائے۔