621

گہرے سانس کی مشقیں کس طرح ڈپریشن سے بچاتیں ہیں؟

تحریر شئیر کریں

(deep breathing)
زندگی سانس سے عبارت ہے۔زندگی نام ہی سانسوں کی روانی کا ہے۔لیکن درست طور پر سانس لینا یہ ایک تکنیک ہے ۔جسے deep breathing کا نام دیا جاتا ہے۔اس کا طریقہ یہ کہ ناک سے سانس کھینچیں۔۔۔اور پھر کچھ سیکنڈ تک روکیں رکھیں۔اور پھر منہ کے راستے خارج کر دیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ 8،7،4۔۔۔طریقے سے سانس لیں یعنی سب سے پہلے ریلیکس ہو کر اس طرح سے بیٹھیں کہ کمر کی ہڈی بالکل سیدھی ہو۔۔آنکھیں بند کر لیں۔اب پوری توجہ سانس پہ مرکوز کر لیں۔ناک کے زریعے چار تک گنتے ہوۓ سانس کھینچیں پھر سات منٹ تک روک کے رکھیں اور اٹھ منٹ تک گنتے ہوۓ منہ کے راستے ناہر نکال دیں۔

گہرے سانس کی مشقیں کس طرح سے ڈپریشن اور ٹینشن کو دور کرتیں ہیں؟
انسانی دماغ ایک ایسی مشین ہے جو ہمہ وقت کام کرتی ہے۔یہاں تک کہ ہم سو جاتے ہیں مگر دماغ نیند کی حالت میں بھی کام کرتا رہتا ہے۔گہرے سانس کی مشقیں وہ واحد تکنیک ہے جس سے دماغ کو ریلیکس ملتا ہے۔اس کی مثال کو آپ ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کہ جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہمارے دماغ میں ہر وقت الٹ پلٹ خیالات چل رہے ہوتے ہیں۔جنہیں روک سکنے پر ہم قادر نہیں ہوتے۔ جیسا کہ ہمارا دماغ کوئی اسٹیشن ہو جس پر ایک وقت میں کئ ٹرینیں آن کھڑی ہوتیں ہیں۔اور بھانت بھانت کی آوازوں سے کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔بالکل ٹینشن کے وقت ہمارے دماغ کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔اس طرح سے جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو جیسے دریا میں پانی کا بہاؤ آتا چلا جاتا ہے۔ایسے ہی سوچیں بھی آتیں چلیں جاتیں ہیں۔ جب ہم گہرے سانس کی مشقیں کرتے ہیں تو اس پانی کے بہاو یعنی سوچوں کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔اور ہم ریلیکس ہو جاتے ہیں۔پانی کا بہاو اگر نا رکے تو سیلا ب آ جاتے ہیں اسی طرح دماغ کو اگر خالی نا چھوڑا جاۓ تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ناک سے سانس لینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

ناک سے سانس لینا کئ طرح سے فائدہ مند ہے۔اس سے کاربن ڈائی اکسائیڈ ختم ہوتی ہے اور اکسیجن کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے اور تازہ اکسیجن میسر آتی ہے۔سردی کے موسم میں ناک سے سانس لینے سے گرم ہوا پھیپھڑوں میں جاتی ہے اور چسٹ انفیکشن سے بچاتی ہے۔جبکہ منہ کے زریعے سانس لینے سے بیمارہاں جنم لیتی ہیں۔

ڈپریشن ،ٹینشن اور ذہنی تناؤ
عصر حاضر کے جن ہیں جنہیں بوتل میں قید کیا جا سکتا ہے۔جی ہاں۔۔۔۔یہ وہ موذی بیماری ہے جو ہر بیماری کی جڑ ہے۔شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کی بنیادی وجہ بھی یہی بیماری ہے۔ رائس یونیورسٹی کی ایک حالیہ ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے ڈپریشن اور شوگر کے درمیان ایک گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ذیابطیس کیر میں شائع ہونے والی1992 ء کے ایک مطالعہ کے مطابق ڈپرہشن ہائی شوگر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
انسان اپنی محنت اور کوشش سے ڈپریشن اور اس سے متعلقہ بیمارہوں سے نجات پا سکتا ہے۔جن میں سے ایک موثر طریقہ گہرے سانس کی مشقیں بھی ہیں۔لائف سٹائل کے ایک کوچ نے ڈپریشن سے بچاؤ کے لیے گہرے سانس کی مشق تجویز کی ہے۔جس سے بآسانی ڈپریشن اور اضطراب سے بچا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر صداقت پاکستان کے مشہور سائکاٹرسٹ ہیں وہ ڈپریشن سے بچنے کی بہترین تکنیکس سڑیچ والی ایکسرسائز بتاتے ہیں۔روزانہ دس منٹ کی یہ ورزش ایک صحت مند طرز زندگی کی ضامن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں