951

یوآن ریڈلی سے مریم بننے تک کے سفر کی کہانی

تحریر شئیر کریں

یوآن ریڈلی سے مریم بننے تک کے سفر کی کہانی جتنی دلچسپ اور عجیب ہے اتنی ہی پر خطر اور صعوبتوں سے بھری ہوئی ہے۔اس راستے میں عزم وہمت اور پیشے سے لگن بھی دکھائی دیتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور ایمان کی طلب بھی نظر آتی ہے۔یہ وہ رنگ ہیں جنہوں نے اس کہانی کو بہت حسین و جمیل بنا دیا ہے۔

یو آن ریڈلی ایک مشہور جرنلسٹ تھی۔اس کا نام عالمی سطح پر ایک جانا پہچانا نام تھا۔جو لندن کے ایک مشہور جریدے میں بطور چیف رپورٹر کام کر رہی تھی۔نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان پر چڑھائی کے منصوبے بنا رہا تھا۔یہ وہ دور تھا جب عالمی افق پر افغانیوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا تھا اور نائن الیون کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا تھا اور اسامہ افغانستان میں روپوش تھا۔امریکہ ہر حال میں اسامہ کو افغانیوں کی پناہ سے واپس لینا چاہتا تھا جبکہ افغانوں کی روایت ہے کہ وہ اپنا مہمان واپس نہیں کرتے۔۔سو حالات کافی بگڑ چکے تھے۔یوآن ریڈلی سچ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔یہ اصل حقائق تک پہنچنا چاہتی تھی۔جس کے لیے یہ پاکستان آئئ۔اپنے ساتھ ایک ترجمان لیے وہ مختلف جلسے جلوس اور انٹرویو کرتیں رہیں۔پھر وہ افغانستان بھی گئیں ۔یہی سے کہانی میں دلچسپ موڑ آتا ہے۔افغانستان جانا ان دنوں قانونی طور پر ممکن نا تھا۔سو غیر قانونی طور پر وہ افغانستان میں داخل ہو گئ۔جہاں ایک گھر میں اسے رکھا گیا۔جن کی مہمان نوازی ،جنگ سے بے خوفی اور دیگر اخلاقیات نے بہت متاثر کیا۔وہ اپنی کہانی مکمل کر چکی تھی۔اور جس دن اس کی واپسی تھی اسی دن افغانیوں نے پاکستان بارڈر بند کر دیا۔یوں اس نے گنجلک اور پرخطر راستوں سے پاکستان آنے کی ٹھان لی۔۔۔یہ راستہ بہت خطرناک دروں اور پر خطر پہاڑوں سے گھرا ہو اتھا۔مگر اس کے عزم کے اگے سب ہیچ تھا۔

وہ ایک سچی صحافی تھی۔اپنے کام سے لگن اور زوق نے اسے نڈر اور بیباک بنا دیا تھا۔اسی سفر میں جب وہ گدھے پہ سوار ہوئی تو گدھے کے اچھلنے سے اس نے اس کے منہ سے انگلش میں کچھ الفاظ ادا ہوۓ غیرارادی طور پر ۔۔۔جس سے وہ پکڑی گئ۔۔۔یہ کہانی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔یوآن ریڈلی سچ کی طلب گار تھی یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ کسی ایسے دین پہ قائم رہتی جس کی اپنی سچائی مشکوک ہو۔اللہ اسے ایسے لوگوں مین لا کھڑا کیا۔جو اسے دین پہ عمل کر دکھاتے اور پھر اسے کھرے کھوٹے کی پہچان ہوتی۔اسی قید میں افغانیوں کے اخلاق اور قوت ایمانی کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔جس نے اس کی بنیادوں کو جھنجھوڑ ڈالا تھا۔یہ تمام عرصہ جو اس نے قید میں گزارا اس کے لیے ایمان لانے کا سبب بنا۔قید سے نکلتے ہی وہ

یوآن ریڈلی سے مریم بن گئ۔
طالبان می قید میں ۔۔یوآنے ریڈلی سے مریم تک۔۔۔۔بہت دلچسپ کتاب بھی لکھی۔اتنی خوبصورت کتاب کی جس میں سچ و حق کے ساتھ ساتھ سسپنس بھی موجود ہے۔پڑھنے بیٹھیں تو ایک ہی نشست میں پڑھنے کو دل چاہے۔اس کتاب میں یوآن ریڈلی نے اپنی ساری داستان قلم بند کی یے۔
اس کہانی کا ایک سیاہ باب بھی ہے وہ یہ کہ یوآن ریڈلی جن کی بیٹی تھی وہی اپنے مفادات کی خاطر اس کی جان کے در پے ہوگۓ۔امریکہ چاہتا تھا کہ طالبان کی قید میں اس صحافی کو جاسوس ثابت کر کے سنگسار کیا جا ۓ تاکہ اپنی کہانی کو جلد از جلد انجام تک پہنچا کر دنیا کو مسلمانوں کی دہشت کا اصل چہرہ دکھایا جا سکے۔مگر وہ بڑی چال چلنے والا ہے اس کے اپنے منصوبے ہیں جس کے اگے کسی کی کیا مجال۔۔۔۔افغانیوں کی رحم دلی اور انصاف اور یوآن ریڈلی جس اخبار میں کام کرتی تھی ان کے ٹھوس ثبوت سے بالآخر ثابت ہو اکہ وہ صحافی ہے جاسوس نہیں۔یہ بات ثابت ہوتے ہی اسے رہا کردیا گیا۔

دوران قید اسے اسلام کی دعوت بھی دی گئ جسے اس نے اسلام پر تحقیق کے وعدے کے ساتھ قبول کیا۔اور بالآخر سچ کے سفر کی اس صحافی نے جھوٹ مکاری اور فریب کی دنیا چھوڑ کر اسلام کے ساۓ تلے پناہ لی۔وہ اعتراف کرتیں ہیں کہ اپنی قید کے دوران اس نے بارہا سوچا کہ اسے وحشت ناک سزا دی جاۓ گی۔اسے سنگسار کیا جاۓ گا۔مگر افغانوں نے اسے آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھا۔میرے ناشاستہ رویے پہ بھی وہ مہربان رہے۔یہ سب میرے لیے ناقابل یقین تھا۔افغانیوں اور طالبان کے حوالے سے جو داستانیں سن رکھیں تھیں وہ ساری دم توڑ گئیں۔صرف سچ باقی رہ گیا۔جو بالاشبہ ننگا تھا مگر بقا اسی میں تھی۔

اس عظیم صحافی نے بقا کی دنیا کے سفر کا آغاز کیا وہ آج بھی اسلامی دنیا کا چمکتا ستارہ بن کر پہلے سے زیادہ آب و تاب سے جگمگا رہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں