337

یوم محبت ۔۔سوالنامہ

تحریر شئیر کریں

Jیوم محبت ۔۔سوالنامہ

آج چودہ فروی یوم محبت کے طور پر منایا جا رہا ہے۔منا نا چاہیے یا نہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔پر محبت کرنے والے ہر دور میں رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ جرثومے پوری شدو مد سے موجود رہیں گے۔اس حوالے سے کچھ سوال ۔۔۔۔

کیا۔محبت ایک وہم ہے یا حقیقت؟
میری معلومات کے مطابق محبت کا وجود تو ہے اس کو ماننا پڑے گا ہاں شادی سے پہلے کی محبت کو وہم کہہ سکتے اور بعد کو حقیقت۔۔۔۔اگر حد میں رہ کر کی جاۓ اور حدود کو نا توڑا جاۓ تب بھی حقیقت اور اگر حدیں پھلانگ دیں جائیں تو یہ محبت کے درجے سے نکل کر فساد کے درجے میں داخل ہوجاتی ہے۔

کیا محبت کی ضرورت ہوتی ہے؟

جی ہاں محبت ایک فطری ضرورت ہے جبھی اللہ نے میاں بیوی کی صورت میں اس خوبصورت تعلق کو محفوظ رکھا ہے۔محبت ایک فطری جذبہ ہے جو انسانوں تو کیا جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔

محبت ہے کیا؟

سرمئ بادل جب اپنی چھب دھکا کر تپتی دوپہر میں برسنا شروع کردیں۔درد دروزہ سے لڑتی ماں جب اچانک سےبچے کی آواز سنے۔شدید سردی ہو ،رات کا پچھلا پہر اور کوئی اللہ کا بندہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرے۔تو یہ محبت ہے۔
چاہے جانے کا پرر لطف جزبہ اور احساس ہر احساس سے بڑھ کر ہوا کرتا ہے۔جب کوئی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کو اپنا مانتا ہے۔اپنے دل میں جگہ دیتا ہے تو وہ شخص بلا رنگ و تفریق آپ کی روح میں بس جاتا ہے۔لاشعور میں پناہ لے لیتا ہے۔پھر وہاں سے اسے کوئی نہیں نکال سکتا۔وقت کی دبیز تہوں تلے دب تو جاتا مگر موجود رہتا ہے۔

محبت کا مثبت پہلو کیا ہے؟


محبت سے بڑے بڑے ولی پیدا ہوۓ۔جب دل پہ چوٹ پڑی،محبت میں ناکام ہوۓ تو پگھل گۓ۔پھر زمانے نے دیکھا کہ محبوب کی محبت انھیں خالق کے در تک لے گئ۔اور پھر وہ حب الہی نصیب ہوئی جس کے سامنے ساری محبتیں ہیچ ہیں۔یہ وہ لذت ہے جس کا ذائقہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔یہی محبت کا سب سے مثبت پہلو ہے کہ یہ دل کو گداز کر کے اس سے غیر اللہ کونکال باہر کرتی ہے۔پھر اس دل میں رب کے سوا کون ٹھہر سکتا ہے۔

لوگ محبت میں پاگل کیوں ہوتے ہیں؟

محبت می پاگل وہ ہوتے ہی جو پانے پہ یقین رکھتے ہیں۔میرا ماننا ہے۔جدائی انسان کو نکھار دیتی ہے اسے لذت آشنا کرتی ہے۔اسے رب سے ملاتی ہے۔پا کر تو محبت کا سارا مزہ۔کرکرا ہو جاتا ہے۔پاگل پن جنون کی شکل ہے اور جنون بیماری ہے جس کا علاج ہو نا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں