572

قرآن ڈائری

تحریر شئیر کریں

قرآن ڈائری دنیا و آخرت سنوار دینے والی کتاب کیا کہتی ہے جانیے قلم کتاب پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورہ آل عمرآن آیات 141 تا 148


الحمد للہ کثیرا کثیرا اس ذات کے لیے جس نے قرآن سکھایا۔اور پڑھتے رہنے کی توفیق دی۔آج کی آیات پڑھتے ہوئے دو مقامات ایسے تھے جسے پڑھ کر میں چونک اٹھی۔

ترجمہ “جو کوئی چاہتا ہے ثواب دنیا۔کا ہم اسے وہ بھی دے دیتے ہیں جو کوئی چاہتا ہے ثواب آخرت کا ہم وہ بھی دے دیتے ہیں۔اور ثواب آخرت کا بہترین ہے۔”


بہت چونکا دینے والی آیات جنہوں نے ازسر نو اپنا محاسبہ کرنے کی توفیق بخشی۔کیونکہ ہم بہت سے کام کر تو رہے ہوتے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں کہ یہ نیک اعمال ہیں مگر ایک زرا سی نیت کی خرابی سارے کیے کرائے پہ پانی پھیر دیتی ہے۔نیت کا خالص ہونا اعمال کی قبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔حدیث کے مطابق اخلاص نیت کے فقدن کے باعث قاری قرآن شہید اور سخی تینوں اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے۔

اخلاص کا تعلق نیت سے ہے۔آپ نے صرف اپنے دماغ میں بٹھانا ہے کہ میرا جینا میرا مرنا اور میری قربانی اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کے بعد ہر عمل خود بخود نیک اعمال کی۔فہرست میں ٹائپ ہونا شروع ہو جائے گا۔چایے وہ دنیاوی اعمال ہی کیوں نا ہوں اگر آپ کی نیت خالص ہے تو اس کا بے پناہ اجروثواب ملے گا۔نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے آپ کسی صحابی کے گھر لے گئے پوچھا یی روشن دان کیوں رکھا یے بولے اس لیے کہ ہوا آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم نیت کر لیتے کہ اس میں سے اذان کی آواز بھی آئے گی تو تمھیں ثواب بھی ملتا اور ہوا تو آنی ہی تھی۔”زرا سی نیت کی تبدیلی آپ کے اعمال کا وزن بڑھا دیتی ہے ۔

کرنے کا کام


انما لااعمال باالنیات اعمال نیتوں سے ہیں۔اس حدیث مبارکہ کو محدثین نے صحاح ستہ کے شروع میں لکھا ہے تاکہ پڑھنے والے اپنی نیتوں کو خالص کر لیں۔اگر آپ بھی اپنے دماغ کے دروازے پہ ایک فلٹر لگا لیں کہ ہر ایکشن اللہ کے لیے ہوگا۔پھر ہمارا کھانا پینا سونا جاگنا کمانا سب عبادت میں شمار ہوگا۔

خواتین جن کی زندگی کا بیشتر حصہ کچن میں گزرتا ہے اگر وہ یہ نیت کر لے کہ اللہ نے اسے یہ ڈیوٹی تفویض کی ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلانا ہے اور بھوکے کو کھلانا کس قدر ثواب کا باعث ہے۔صفائی کرتے ہوئے نصف ایمان والی حدیث ذہن میں رکھیں۔دیگر کام کرتے ہوئے بھی اپنی نیت کو اخلاص کے فلٹر سے گزار لے تو نیکیوں کا انبار لگ جائے گا جو روزقیامت بخشش کا زریعہ بنے گیں ۔انشاء اللہ
آے اللہ ہماری نیتوں کو اخلاص عطا فرما۔آمین

قرآن ڈائری آپ نے پڑھی۔اب نیتوں کو خالص کرنے کا عزم کریں اس یقین کے ساتھ کہ ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں