حرفِ معتبر:کالم: معراجِ مصطفیٰ ﷺ اور انسانیت کی معراج 217

حرفِ معتبر:کالم: معراجِ مصطفیٰ ﷺ اور انسانیت کی معراج

تحریر شئیر کریں

حرفِ معتبر:کالم: معراجِ مصطفیٰ ﷺ اور انسانیت کی معراج
آ
کائنات کی وسعتوں میں انسان کا وجود بظاہر ایک ذرے سے زیادہ نہیں، لیکن قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس نے اس ‘مشتِ خاک’ کو وہ ہمت عطا کی کہ یہ زمان و مکان کی قید توڑ سکے۔ انسانی فطرت ہمیشہ سے تسخیرِ کائنات کی پیاسی رہی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب تک انسان نے اپنے خالق کی بندگی کا طوق گلے میں نہیں ڈالا، وہ بھٹکتا ہی رہا۔ سفرِ معراج محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے یہ پیغام تھا کہ اگر روح پاکیزہ ہو اور مقصد بلند، تو زمین کا یہ مسافر کہکشاؤں سے بھی آگے قدم رکھ سکتا ہے۔

معراجِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ “عالمِ بشریت” کی رسائی صرف مٹی کے ڈھیر تک نہیں، بلکہ آسمان کی بلندیوں تک ہے۔ جب ایک انسان اپنے نفس کو حیا کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے اور اپنی اخلاقیات کو اسلامی اقدار کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے، تو وہ فرشتوں سے بھی افضل ہو جاتا ہے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ستاروں پر کمند ڈالنے کی کوشش تو کی، مگر اپنے وجود کے اندر چھپے ہوئے ‘انسان’ کو بھول گئے۔ ہم نے مادی ترقی کو ہی معراج سمجھ لیا، حالانکہ اصل بلندی تو اللہ کی قربت اور اس کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں ہے۔ ایمان کی طاقت جب بشریت کے ساتھ ملتی ہے، تو گردوں (آسمان) کی وسعتیں بھی قدم چومنے لگتی ہیں۔

عجیب تماشا ہے کہ وہ مغربی تہذیب جو آج خلائی فتوحات پر فخر کرتی ہے، اخلاقی انحطاط کے اس گڑھے میں گری ہوئی ہے جہاں انسانیت شرمندہ ہے۔ جدیدیت کے نام پر لبرل طبقہ جس ‘آزادی’ کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، وہ دراصل روح کی غلامی ہے۔ ایک طرف مریخ پر بستیاں بسانے کے دعوے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی گھروں میں حیا اور خاندانی نظام کا جنازہ نکل رہا ہے۔ یہ کیسی ترقی ہے جو انسان کو مشین تو بنا رہی ہے مگر اسے ‘بشر’ رہنے نہیں دیتی؟ مغربی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ خلا کو تو تسخیر کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنے دل کی بستی میں موجود شر اور تکبر کو شکست دینے میں ناکام ہیں۔

بلاشبہ، اقبال نے سچ کہا تھا کہ معراجِ مصطفیٰ ﷺ نے ہمیں ہماری اصل حقیقت سے آشنا کر دیا۔ یہ سفرِ عشق تھا جس نے عقل کی ہر دیوار کو گرا دیا۔ بشریت جب نورِ محمدی ﷺ سے منور ہوتی ہے، تو افلاک کی بلندی اس کے سامنے ہیچ نظر آتی ہے۔ ہم وہ ہیں جنہیں سجدوں نے وقار بخشا تھا، مگر افسوس کہ ہم نے خاک میں رزق ڈھونڈنے کو ہی اپنی منزل سمجھ لیا۔ ہماری روح پکار رہی ہے کہ اے مسافر! تیرا ٹھکانہ یہ زمین نہیں، تیرا مقام تو سدرۃ المنتہیٰ کے پار ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ضمیر کی دستک سنیں اور مادی چکا چوند سے نکل کر دوبارہ اس دربارِ الٰہی سے رجوع کریں جہاں سے ہمیں ‘اشرف المخلوقات’ کا تاج ملا تھا۔ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، اصل کامیابی تو آخرت کی سرخروئی اور اللہ کی رضا میں ہے۔ آئیے، اپنی زندگیوں کو اسوۂ حسنہ کے نور سے سنواریں تاکہ کل بروزِ قیامت ہم اس معراج کے سچے وارث بن کر اٹھیں جس کا وعدہ مومنین سے کیا گیا ہے۔
کیا آپ چاہیں گی کہ میں اس کالم کے لیے کچھ موزوں ہیش ٹیگز (Hashtags) یا سوشل میڈیا کیپشن بھی تیار کروں؟

حرفِ معتبر:کالم: معراجِ مصطفیٰ ﷺ اور انسانیت کی معراج

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں