بچوں کے لیے خصوصی کہانی
آؤ جنت میں گھر بنائیں
آج جمعہ کا دن تھا سوچا بچوں کے ساتھ کوئی کریٹیویٹی ہو جاۓ۔کچھ سوچتے ہوۓ ارحہ نے پلان کیا۔اور پھر جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی۔وہ بہت پرجوش تھی کیونکہ آج وہ اپنے تینوں بچوں کو جنت میں گھر بنا نا سکھانے والی تھی۔اپنے اس منفرد اور خوبصورت آئیڈیے پہ خود کوداد دینا مت بھولی۔ارحہ سکول کے زمانے سے ایسی ہی تھی منفرد اور کری ایٹیو ۔۔۔۔۔اوپر سے اسلامی ذہن رکھنے والی۔۔۔ان تینوں عادات نے اس مثالی شخصیت کے روپ میں دھار دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحہ نے دوپہر کے کھانے کے بعد تینوں بچوں کو لان میں لے آئی جہاں موسم سرما کی نرم گرم دھوپ بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔آج بڑے دنوں بعد دھند چھٹی تھی اور سورج کا منہ دیکھنا نصیب ہوا تھا۔ٹھٹھرتے وجود دھوپ کی روشنی سے کچھ تپتپاۓ تو انوکھی سے خوشی محسوس ہو رہی تھی۔سورج زندگی بن کر لوگوں کی رگوں میں حرارت انڈیل رہا تھا۔اور ارحہ ایمان کی حرارت بڑھانے کی تگ ودو میں مصروف عمل۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
دیکھو بچوں گھر تو سب کو چاہیے ہوتا ہے نا!اور گھر بھی ایسا جو جنت میں ہو تو آپ میں سے کون کون اپنے گھر کا مالک بننا چاہے گا؟بچوں کا شتیاق مالک بننے کا سن کر ایک دم بڑھ گیا۔سب نے چونک کر ہوچھا جی ماما۔۔۔ہم سب اپنے گھر کے مالک بننا چاہتے ہیں۔تو سنو آج جمعے کا بابرکت دن ہیں۔جیسا کہ آپ سب جانتے کہ یہ دن مسلمانوں کے لیے عید کی طرح ہوتا ہے۔اس دن کچھ خاص کچھ سپیشل ہونا چاہیے ۔۔۔۔سب بچوں نے اثبات میں سرہلایا۔
۔۔۔۔۔۔
دس بار سورہ اخلاص پڑھو۔۔سب بچے خضوع خشوع سے پڑھنے میں مصروف عمل تھے۔سب پڑھ کر ارحہ کی طرف متوجہ ہوۓ جس کا چہرہ انوکھی خوشی سے چمک رہا تھا۔لو جی آپ کے لیے گھر بن گیا وہ بھی جنت میں۔۔۔سب نے خوشی سے نعرہ بلند کیا۔۔
اب آپ یہ بھی چاہیں گے کہ اس میں کوئی سامان آور خزانہ موجود ہونا چاہیے۔سب نے اثبات میں سرہلایا۔ تو پھر لاحول ولا قوتہ تین تین بار پڑھیں۔اور تصور کریں آپ کا خوبصورت اور پیارا گھر قیمتی اور خوبصورت فرنیچر سے بھر چکا ہے۔اور آپ ٹہل ٹہل کر دیکھ رہے اور خوش ہورہے۔بچے آنکھیں بند کیے اپنے گھر کی خوشی محسوس کر رہے تھے اور ارحہ اگلے جمعے کے لیے کوئی ایکٹیویٹی سوچنے میں مصروف تھی۔