490

آزاد نظم

تحریر شئیر کریں

زینب بتول

خوش تھے پیرو جواں
بازار تھے رونق بھرے
آباد تھے مہ خانے
مظلوم کی آہ سے بے خوف
لوٹ مار دھاڑ تھی
موت سے بے خبر
انساں
خودسے خدا بن بیٹھا
قہر برسا
وبا پھوٹی
زمین ہلی
وجود لرز اٹھے
معلوم ہوا
کوئی اور بھی ہے
کوئی جو شہ رگ سے بھی قریب ہے
یہ زندگی جس کی ہے
اک دنیا اور بھی هے جهاں لوٹ کر جانا هے
وه جو اصل حقیقت هے
کچھ تیاری اسکی بھی کرنی هےلوٹ آیا
اصل کی جانب
انسان
جسے ناز تھا اپنی بستی په
معلوم هوا
کچھ بھی نهیں۔۔۔۔۔سواۓ معنی کے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں