آستین کا سانپ قسط نمبر ٢
قسط وار کہانی
از قلم ساجدہ بتول
”اونہہ بڑا لاڈلا بنا پھرتا ہے وہ بادشاہ سلامت کا ۔ آج میرا یہ سانپ اسے بھرے دربار میں شرمندہ کرے گا ۔“
ابرار منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا ۔
”کیوں ہاتھ دھو کے اس بیچارے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں! وہ بادشاہ سلامت سے مخلص بھی تو اتنا ہی ہے ۔ “
اس کی بیگم روہانسی ہو کر بولی ۔
”ہاں وہ مخلص ہے ۔ مگر میرے دل میں بھی بادشاہ سلامت کی محبت ہی ہے جو اس کو ان کے قریب دیکھ کر میرا برداشت کا مادہ ختم ہو جاتا ہے ۔“
اس نے کہا تھا ۔۔
”یہ محبت ایک مثبت چیز ہے ۔ مگر اس کا استعمال آپ منفی کر رہے ہیں ۔“ بیگم نے احساس دلانا چاہا ۔
”بس بس! اپنی دانش اپنے پاس رکھو ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے ، اسے سر عام ذلیل کرواٶں گا ۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابرار کو کچھ معلوم نہ تھا کہ کچھ دیر بعد اسی دربار میں اس کے ساتھ ایک بھیانک قصہ ہونے کو ہے!
اسے یاد تھا تو بس اتنا ، دو دن پہلے بادشاہ سلامت نے دربار میں اعلان کیا تھا ۔ ہماری ہیروں والی تھیلی گم ہو گٸی ہے ۔ اس کا چور جو کوٸی بھی ہے ، ہم اسے کہتے ہیں ، وہ چپکے سے تھیلی اپنی جگہ واپس رکھ دے ۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو پرسوں ہم اسے بھرے دربار میں قتل کر دیں گے ۔ اگرچہ ہم معاف کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں مگر آج کل ہمیں کسی انسان کی گردن پہ چھرا پھیرنے کا شوق ہو گیا ہے ۔۔۔
چور مجرم تو ہے ہی ، پھر ہم اسی پہ یہ شوق کیوں نہ پورا کریں! لہٰذہ اسے چاہیے ، پرسوں جب ہم دربار میں گھنٹی بجاٸیں ، وہ آ جاٸے ۔ ہاں مگر گھنٹی بجنے سے پہلے اسے آنے کی اجازت نہیں ۔ بس اس بات پہ عمل کرنے پہ ہم مجبور ہیں ۔“
بادشاہ سلامت کی قتل کی خواہش اگر عجیب تھی تو چور کو اندر داخل ہونے کا وقت دینے کی بات عجیب تر تھی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابرار بادشاہ سلامت کا پرانا وزیر تھا مگر آصف اس سے بھی زیادہ پرانا اور بادشاہ سلامت کا پراٸیویٹ سیکرٹری تھا ۔ ابرار کو بادشاہ سلامت سے بے پناہ محبت تھی ۔ اس لیے جب وہ آصف کو بادشاہ سلامت سے زیادہ قریب دیکھتا تو جل جل جاتا ۔ اور اسے شرمندہ کرنے کا کوٸی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا ۔
آخر ایک روز اس کے ذہن میں آصف کو بادشاہ سلامت کی نظروں سے پورا گرانے کی ایک ترکیب آٸی اور وہ اس پہ عمل کی ٹھان کر ایک ماہر سپیرے کے پاس جا پہنچا ۔ اس کا ارادہ سانپ کی پرورش سیکھنے کا تھا ۔ دن ہفتے ، ہفتے مہینوں اور مہینے برسوں میں یوں بدلے کہ آج وہ وقت آ پہنچا جس کا اس کو انتظار تھا ۔
آستین کا سانپ
(جاری ہے)