376

آستین کا سانپ 4

تحریر شئیر کریں

آستین کا سانپ 4

قسط وار کہانی

از قلم ساجدہ بتول

قسط 4

اندر داخل ہونے والا شخص کوٸی اور نہیں ، بلکہ آصف تھا ۔ لوگوں نے حیرت سے اسے دیکھا ۔ پھر بادشاہ سلامت کے پہلو میں بیٹھے آصف کو دیکھا اور پھر اندر آنے والے کو دیکھا ۔۔۔۔۔ دونوں کی شکلیں ہو بہو ایک جیسی تھیں ، کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ ان دونوں میں اصلی آصف کون ہے اور نقلی کون ؟؟؟
”آ جاٶ ، آ جاٶ “ بادشاہ سلامت بولے ۔ ”مگر ابھی ہم سے ذرا فاصلے پہ کھڑے ہو جاٶ ۔ ہم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کروا لیں ۔“
اتنا کہہ کر وہ اپنے قریب والے آصف کی طرف مُڑے ۔ ”لو بھٸی تمہارا وقت پورا ہو چکا ۔ اب تم منہ دھو لو ۔“
اتنا سنتے ہی اس آصف نے قریب رکھی ایک بوتل اٹھاٸی اور اس میں سے کچھ نکال کر اپنے چہرے پہ ملنے لگا جو کوٸی سیال مادہ تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی قمیص کی جیب سے رومال نکال کر اس سے اپنا چہرہ صاف کیا تو اب اس کی جگہ سے آصف غاٸب تھا ۔ اس کی جگہ کوٸی اور ہی موجود تھا ۔
”چلو بھٸی اصلی آصف! اب تم آ جاٶ ۔“ بادشاہ سلامت نے کہا
اتنا سن کر دروازے کے پاس کھڑا آصف بادشاہ سلامت کے قریب آیا اور ان کے سامنے اکڑوں بیٹھ گیا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک تیز دھار چھرا تھا ۔ ”بادشاہ سلامت! میں نے آپ کے ہیرے اٹھاٸے ہیں ۔ آپ یہ چھرا میری گردن پہ پھیر دیں ۔ یہ میں نے لوہار کی دوکان سے خود خریدا اور تیز کروایا ہے ۔ “ اس نے وہ چھرا ادب سے بادشاہ سلامت کے سامنے پیش کرتے ہوٸے کہا ۔
پورے دربار میں حیرت اور صدمے کی ایک لہر دوڑ گٸی ۔ آصف جیسا شخص بھی یہ کام کر سکتا تھا!!! اس پر اس کا خود کو خود ہی پیش کرنا!!!
معاملہ ابھی بھی معمہ ہی تھا ۔۔۔۔ ادھر ابرار کی ایک نٸی لاٹری نکلنے کو آ گٸی تھی ۔ اس کا مقصد فوت ہوتے ہوتے دوبارہ زندہ ہونے چلا تھا ۔ کہ آصف مرنے چلا تھا ۔ اس کے راستے کا کانٹا خود کو خود ہی اکھیڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ایک حیرتناک بات ہو گٸی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بادشاہ سلامت فر فر آنسٶوں سے رونے لگے تھے ۔ شدت سے جذبات سے ان سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا ۔ ”مم ۔۔۔۔ میرے ۔۔۔۔ پپ پیارے آصف ۔۔۔۔۔۔۔ مم ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ تم سے یہی ۔۔۔۔۔ امید تھی ۔ تم نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔“
”آپ مجھے قتل کر دیں ناں! “
آصف جلدی سے بولا ۔
”نہیں ، میں ایسا نہیں کروں گا ۔ “
”مگر یہ آپ کا شوق ہے ۔ میں اس شوق کی تسکین چاہتا ہوں ۔ “ آصف مصر ہوا
”ضد نہ کرو ۔۔ جاٶ شاباش ۔ “ بادشاہ سلامت نے شفقت سے کہا ۔
آصف تذبذب کی کیفیت لیے وہاں سے اٹھ گیا ۔ ادھر لوگوں کے خیالات ایک بار پھر معمہ بن گٸے کہ چوری کا سن کر بادشاہ سلامت نے خوشی کا اظہار کیوں کیا تھا ؟؟؟
(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں