275

ارض نو کی خوشیاں

تحریر شئیر کریں

ارض نو کی خوشیاں
نورین خان پشاور

آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔سردی تو تھی مگر اتنی زیادہ نہیں کہ قابل برداشت نا ہو۔گاوں کے قریب پہنچے تو دور تک سرسوں کے پیلے پیلے لہلہاتے خوبصورت نظر آنے لگے۔گاوں کے قدرتی نظارے دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔
واہ واہ ہمارے دیہاتوں کی کیا بات ہے ٹیوب ویلوں سے اچھلتا تازہ پانی۔۔
ہری بھری کھتیاں،سامنے تالاب میں چھوٹے بچے نہاتے ہوئے۔
دور سے ایک ٹانگہ آتے دیکھائی دیا۔۔
ست سری آکال چودھری شاہجہاں صاحب۔۔
کیا حال ہے مہندر سنگھ ؟ سب کچھ ٹھیک ٹھاک۔
بس شاہجہاں صاحب اوپر والے کی کرپا ہے۔
آئیے تشریف رکھئے آپکو حویلی پہنچا دوں۔
بس بس مہندر سنگھ یہی رک جاو آگے ٹانگہ نہیں جائے گا۔مجھے پیدل ہی جانا پڑے گا۔
یہ لو پچاس پیسے۔
ارے چودھری صاحب اسکی کیا ضرورت۔
لے لو،لے لو چھوٹے شیر سنگھ کو ٹافیاں خرید کے دے دینا۔
اچھا میں چلا رب رکھا۔۔۔
ٹانگے سے اتر کر چودھری صاحب دائیں طرف اپنے محلے کیطرف موڑ گئے۔
شب شب قدم،شب شب قدم چودھری شاہجہاں آج سویرے سویرے۔۔
ہاں یار موہن داس کچھ ضروری کام تھا اس لئے باہر گیا تھا۔
یہ لیں گلاس لسی کا۔۔۔
ارے نہیں موہن داس۔۔۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
’’ جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو
تو وہ کہہ دے : میں روزے سے ہوں ۔‘‘
موہن داس ادب و احترام سے کھڑے ہو گئے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے کوئی شک نہیں آپکے پیغمبر تو سچے ہیں ہم تو دل سے احترام کرتے ہے۔
مجھے شمع کریں چودھری صاحب میں تو بھول ہی گیا تھا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔اور آج تو شتر وار ( جمعہ ) ہے۔
انسان سے غلطی ہو جاتی ہے موہن داس۔۔۔کوئی بات نہیں میں شام کو آکر لسی پی لونگا۔۔اب خوش۔
اسلام علیکم چودھری شاہجہاں خیر سے آپ پہنچ گئے۔کام تو ہو گیا نا؟
ہاں کیوں نہیں نوبہار بیگم؛ وقت پر ہو گیا۔
ارے او: شکیلہ کہاں ہو۔جلدی آو تمھارے ابا گھر آ گئے ہے۔
ارے کیوں تنگ کرتی ہو میری لاڈلی کو چھوڑو آو بات سنو۔۔۔
ویسے چودھری صاحب آپ ستر سال کے قریب ہو گئے ہیں مگر اب بھی آپکی عادتیں جوانوں والی ہے۔
آخر کیوں نا ہو میری نوبہار بیگم،کیا اس میں اب بھی شک ہے،لاکھوں میں لاجواب،کڑورں میں انتخاب،یہ رخسار لئے ہے یا گلاب،اف رے یہ حسن،اف رے میرے اللہ،اللہ ری آب و تاب،اس ادا کی واری،اس سے سچ دھج کے صدقے بندہ شاہجہاں اپنی نوبہار بیگم کا غلام ہے۔
ارے بس بھی کریں چودھری صاحب۔۔نوبہار بیگم شرماتے ہوئے۔آپکے چونچلے ختم نہیں ہوتے۔
آپ بالکل لیاقت علی خان پر گئے سچی۔۔
لیاقت علی خان پر نہیں بھابھی اپنے چودھری صاحب تو قائداعظم پر گئے ہیں کیا سیاسی آدمی ہے۔گھر کے اندر گل باغ خان داخل ہوتے ہوئے۔
نوبہار بیگم سر پے ڈوپٹہ لے کر اندر جاتی ہے۔
سلام میرے دوست گل باغ خان۔۔۔شکر ہے تم آگئے۔۔
آج تو ہم اکٹھے ہی افطار کرینگے۔۔
ارے نہیں چودھری صاحب۔۔۔میں یہ کہنے آیا تھا کہ آج تراویح کے بعد بیٹھک میں آجانا گپ شپ لگائے گے۔اور تم تو جانتے ہو میرا بیٹا شکیل میرے بغیر روزہ افطار نہیں کرتا۔
آو ہاں شکیل بیٹے کی نوکری کا تار آیا۔۔
ارے کہاں چودھری صاحب چھ مہینے ہوئے درخواست کلکتہ بھجوائی تھی اب تک خیر خبر نہیں۔نجانے اس لڑکے کے بھاگ میں کیا لکھا ہے۔
دیوار کی دوسرے طرف سے آواز آتی ہے۔ارے گل باغ خانہ جلدی گھر آو شام ہو چکی ہے۔
اچھا چودھری صاحب میں چلتا ہوں ورنہ میری بیوی گلدستہ بی بی مجھ سے ناراض ہو جائے گی۔
ارے گل باغ خان آپ آگئے۔چشم ماہ روشن دل ماشاد بس اذان ہونے والی ہے۔
کیا ہوا گل باغ خان آپ پریشان لگتے ہے؟
کیا بتاوں گلدستہ بی بی جب سے ہماری شادی ہوئی ہے تمھیں کوئی خوشی نا دے سکا اس مہنگائی اور مفلسی کیوجہ سے۔۔۔
ارے شکیل کے ابا کیوں فکر کرتے ہیں ہم تو بڑا خوش ہے آپکے ساتھ۔۔۔
تھوڑی معاشی تنگی ہے مگر وقت کیساتھ کیساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
آپ تشریف رکھئے اذان کا وقت ہے۔
شکیل بیٹے کھجوریں لے آو اندر پلیٹ میں رکھی ہے۔
اچھا امی ابھی لایا۔۔شکیل نے جواب دیا۔
اذان ہونی لگی۔۔۔ بسم اللہ کریں۔۔
گل باغ خان روزہ کھجور سے کھولتے ہیں کہ اسی دوران شکیلہ سینی اٹھائے چلی آتی ہے جس میں پلاو،قورمہ،چٹنی،شربت اور کھیر ہوتی ہے۔گلدستہ چچی یہ سینی لیے امی نے بھجوائی ہے۔
ارے شکیلہ بیٹی بہت شکریہ۔
ویسے گل باغ خان یہ ہمارے پڑوسی چودھری شاہجہاں بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔
ہاں یہ تو ہے آخر میرا جگری دوست ہے۔
شکیلہ بیٹی افطاری دے آئی۔۔
جی اماں گلدستہ چچی کافی خوش ہوئی۔
ویسے نوبہار بیگم آج ہماری پسند کا حلوہ بنایا ہے کہ نہیں۔۔
مزے مزے کی باتیں
اور عشق و صادق کی گھاتیں
مزے کی باتیں نہیں چودھری صاحب بلکہ میں نے مزے کا سوجی کا حلوہ کھویا اور الائچی ڈال کے بنوایا ہے۔جی بھر کے کھائیں۔
ویسے نوبہار بیگم ایک بات کہوں اگر برا نا مناو؟
جی بتائیے میں ہم تن گوش ہوں۔
بیگم اگر اپنی بیٹی شکیلہ کا رشتہ گل باغ خان کے بیٹے شکیل خان سے کروا دیں تو کیسا رہے گا؟ اگرچہ انکے حالات تھوڑے خراب ہے مگر شکیل کی نوکری بھی لگ سکتی ہے۔اور ہمیں بھلا کیا لالچ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔یہ شکیلہ بیٹی کو ہی جائے گا۔
بات تو آپکی ٹھیک ہے چودھری شاہجہاں صاحب شکیل بڑا نیک بچہ ہے اور مجھے بچپن سے پسند ہے۔
دھم،دھم،دھم کوئی دروازہ زور سے پیٹ رہا تھا۔
ارے کون ہے ؟ کیا دروازہ تھوڑے گا۔
چودھری صاحب میں ہوں۔۔۔ موہن داس۔۔
آپکا پڑوسی۔۔
کیا ہوا موہن داس۔ ۔۔۔
چودھری صاحب دل بڑا اداس ہے وہ اپنا مہندر سنگھ ہے نا آج یہاں سے بوریا بستر لے کر امرتسر چلا گیا۔میں نے تو بہت روکا پر بولا وہ دیش اب اس کا ہے۔
موہن داس تم نہیں گئے۔۔
نا ہی سرکار۔۔ہم کیوں جائے گے۔ہمارا جینا مرنا پشاور میں ہے۔ہماری تجارت دوکان یہاں ہے۔یہ دھرتی ہماری جنم بھومی ہے۔
ہاں موہن داس تم فکر مت کرو آئندہ مجھے دوکان کا کرایہ بھی مت دو آج سے تم مفت وہاں کاروبار کرو۔مجھے کرائے کی ضرورت نہیں۔
اوپر والا آپکی رکشا کریں چودھری صاحب۔آپکا یہ اوپکار مجھ پر جندگی بھر رہے گا۔
موہن داس پشاور سے نہیں جائے گا۔
اچھا چلو گل باغ خان کے حجرے میں چلتے ہیں۔
شکیل بیٹا جاو گھر میں چائے کا بول دو۔دودھ پتی گڑ والی چائے اور ساتھ حلوہ لاو۔
جی اچھا ابا جان۔۔
گل باغ خان ریڈیو آن کرتا ہے۔
کیا ہوا میرے دوست ریڈیو کی آواز کم ہے۔
اب ٹھیک ہے چودھری صاحب۔۔۔بہتر ہے اب۔
یہ ریڈیو پاکستان ہے۔
ارے یہ کیا بول رہا؟ گل باغ خان۔۔
یہ تو آل انڈیا ریڈیو چینل ہے نہ۔
پتہ نہیں۔۔۔ سنتے ہیں۔
یہ ریڈیو پاکستان ہے۔حاضرین ٹھیک بارہ بج چکے ہیں اور آج رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ ہے۔اور انتہائی خوشی کی خبر ہے۔
کہ پاکستان قائم ہو چکا ہے۔جی ہاں پاکستان وجود میں آچکا ہے اور آج 14 اگست ہے آپ سب کو قیام پاکستان مبارک ہو۔
آو مبارک ہو چودھری شاہجہاں صاحب۔۔۔۔گل باغ خان ناچتے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے سب سے گلے ملتا ہے۔اور موہن داس بھی پاکستان زندہ باد کی نعرے لگاتے ہوئے محلے میں نکلتا ہے۔
عوام کا ہجوم نکلا تھا سب سجدے کر رہے تھے کوئی رو رہا تھا تو کوئی گلے مل رہا تھا۔
پاکستان زندہ باد سارا علاقہ نعروں سے گونج رہا تھا۔یار گل باغ خانہ اس خوشی کے موقع پر ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔
چودھری صاحب اسکی ضرورت نہیں شکیلہ میری بہو بنی گی اور چاند رات کو شکیل اور شکیلہ کا نکاح ہوگا۔ارض نو کی خوشیاں

اور دوسری خوش خبری یہ کہ آج تار آیا ہے شکیل کی نوکری بھی لگ چکی ہے۔
موہن داس نعرہ لگاتے ہوئے۔
پاکستان زندہ باد۔ارض نو کی خوشیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں