533

اعدلو

تحریر شئیر کریں

اعدلو نوک جھونک بھی اور مقصدیت بھی۔۔۔ایک ایسی ہی کہانی

نا ایک ہی تو دن ہوتا خوشی کا۔۔۔۔۔بیوی نے شوہر سے پر شکوہ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔خوش رہنا ہے تو فن لینڈ چلی جاو۔شوہر نے بیوی کی شکوہ کناں نگاہوں کو محسوس کرتے ہوۓ بے ساختہ کہا۔”کیوں وہاں کوئی غمگین نہیں ہوتا کیا”؟ہاں فن لینڈ دنیا کے خوش ترین لوگوں کا ملک ہے پچھلے چار سال سے۔۔۔شوہر نے وضاحت کرتے ہوۓ کہا۔

بیوی کو سوچ میں ڈال کر شوہر اڑنچھو ہو گیا۔اور معصوم بیوی سارا دن نیٹ سرچنگ پہ فن لینڈ سرچ کر تی رہی۔اسے جو وجوہات فن لینڈ کے خوش ترین ہونے کی۔سرفہرست ملی تھی۔اسے دیکھ کر اسے یقین آ گیا تھا کہ مساوات اور عدل وہ ٹولز ہیں جن کی موجودگی میں غم پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔جب حکومت کی طرف سے آپ کی خیر خواہی پر مبنی قانون موجود ہوتا ہے اور اس پہ عمل در آمد بھی ہو رہا ہو تو کون نا خوش رہے گا۔وہ سارا دن سوچتی رہی کہ ہم ناخوش کیوں ہیں کیونکہ نظام عدل و مساوات کا یہاں تذکرہ ملتا ہے وہ بھی کتابوں میں۔مثالوں کے لیے چودہ سوسال پیچھے جانا پڑتا ہے۔اسلام سے یاد آیا امام رازی نے کیا خوب فرمایا تھا کہ اگر قرآن نازل نا ہوتا صرف سورتہ العصر نازل ہو جاتی تو انسانیت کی نجات کے لیے کافی تھی ۔ایک اور امام نے حد ہی کر ڈالی ان کے مطابق اگر “اعدلو”انصاف کرو لفظ ہی اتار دیا جاتا تو نجات کے لیے کافی تھا۔وہ سارا دن نظام عدل ومساوات پہ غور کرتی رہی۔جو فن لینڈ کی خوشی کا راز تھا۔رات گۓ شوہر گھر آیا تو بیوی کو معمول سے ہٹ کر خاموش دیکھا تو تشویش لاحق ہوئی کہ کہیں طبیعت ہی خراب نا ہو سو پوچھے بغیر نا رہ سکا۔

جواب ملنے پر شوہر کے قہقے پھوٹ پڑے۔تم ابھی تک فن لینڈ سے نہیں نکلی۔۔۔جبکہ میں نے تو تمھیں چپ کروانےکے لیے ایک ٹاپک دیا تھا تاکہ تم آج کے دن میری جیب خالی نا کروا سکو۔۔۔اور بیوی نے جب فن لینڈ پہ مٹی ڈال کر آج کے دن پہ غور کیا تو سر پہ ہاتھ مارا اور شوہر کی طرف لپکی اس سے پہلے کہ وہ شوہر کی طرف بڑھتی وہ سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا چکے تھے۔۔۔بیوی کے چہرے پہ بڑے خطرناک تاثرات تھے۔آج ان کی شادی کو پورے پانچ سال ہو گۓ تھے۔فن لینڈ پہ سوچ کیا اٹکی وہ یہ خاص دن ہی بھلا بیٹھی۔چھوڑو گی نہیں نیچے اتریں تو سہی۔بیوی جارہانہ انداز سے اگلے دن کی پلاننگ میں مصروف تھی۔جو یقینا شوہر کی جیب خالی کروانے سے متعلق تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں